آسمانی فیصلہ — Page 370
روحانی خزائن جلد۴ آسمانی فیصلہ ہوگا جن کو ایک ساعت کیلئے ابتلا پیش آ گیا تھا اور اگر خدائے تعالیٰ کا ہاتھ ان کو نہ تھا متا تو خدا جانے کیا حالت ہو جاتی ۔ مجھے اگر چہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج بہت ہوا لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جب کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض مدعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہوتا یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو اُن کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے جن کی تعریف میں وحی الہی بھی نازل ہو گئی تھی آخر حضرت مسیح سے منحرف ہو گئے تھے یہودا اسکر یوطی کیسا گہرا دوست حضرت مسیح کا تھا جو ا کثر ایک ہی پیالہ میں حضرت مسیح کے ساتھ کھا تا اور بڑے اہل بچی کے پیار کا دم مارتا تھا جس کو بہشت کے بارھویں تخت کی خوشخبری بھی دی گئی تھی اور میاں پطرس کیسے بزرگ حواری تھے جن کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ آسمان کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں جن کو چاہیں بہشت میں داخل کریں اور جن کو چاہیں نہ کریں لیکن آخر میاں صاحب موصوف نے جو کر توت دکھلائی وہ انجیل پڑھنے والوں پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر اور ان کی طرف اشارہ کر کے نعوذ باللہ بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ میر صاحب ابھی اس حد تک کہاں پہنچے ہیں کل کی کس کو خبر ہے کہ کیا ہو۔ میر صاحب کی قسمت میں اگر چہ یہ لغزش مقدر تھی اور أصلها ثابت کی ضمیر تا نیٹ بھی اس کی طرف ایک اشارہ کر رہی تھی لیکن بٹالوی صاحب کی وسوسہ اندازی نے اور بھی میر صاحب کی حالت کو لغزش میں ڈالا میر صاحب ایک سادہ آدمی ہیں جن کو مسائل دقیقہ دین کی کچھ بھی خبر نہیں حضرت بٹالوی وغیرہ نے مفسدا نہ تحریکوں سے ان کو بھڑکا دیا کہ یہ دیکھو فلاں کلمہ عقیدہ اسلام کے برخلاف اور فلاں لفظ بے ادبی کا لفظ ہے میں نے سنا ہے کہ شیخ بٹالوی اس عاجز کے مخلصوں کی نسبت قسم کھا چکے ہیں کہ لاغوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ اور اس قدر غلو ہے کہ شیخ نجدی کا استثناء بھی ان کے کلام میں نہیں پایا جا تا تا صالحین کو باہر رکھ لیتے اگر چہ وہ بعض روگردان ارادتمندوں کی وجہ سے بہت خوش ہیں مگر انھیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ٹہنی کے خشک ہو جانے سے سارا باغ بر باد نہیں ہوسکتا ۔ جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے