آسمانی فیصلہ — Page 368
روحانی خزائن جلد۴ ۳۶۸ آسمانی فیصلہ موجود تھی۔ زبر دست طاقت اخلاص کی پائی جاتی تھی اور اپنے دل میں وہ بھی یہی خیال رکھتے تھے کہ میں ایسا ہی ثابت رہوں گا سو خدا تعالیٰ نے اُن کی اُس وقت کی حالت موجودہ کی خبر دے دی یہ بات خدا تعالیٰ کی تعلیمات وحی میں شائع متعارف ہے کہ وہ موجودہ حالت کے مطابق خبر دیتا ہے کسی کے کافرہونے کی حالت میں اس کا نام کا فر ہی رکھتا ہے۔ اور اس کے مومن اور ثابت قدم ہونے کی حالت میں اس کا نام مومن اور مخلص اور ثابت قدم ہی رکھتا ہے خدا تعالیٰ کی کلام میں اس کے نمونے بہت ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ میر صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجز کے مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کرنے کے وقت نہ صرف آپ انہوں نے بیعت کی بلکہ اپنے دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اس سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں جس قدر انہوں نے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے اُن کا اس وقت میں اندازہ بیان نہیں کر سکتا لیکن دوسو کے قریب اب بھی ایسے خطوط ان کے موجود ہوں گے جن میں انہوں نے انتہائی درجہ کے عجز اور انکسار سے اپنے اخلاص اور ارادت کا بیان کیا ہے بلکہ بعض خطوط میں اپنی وہ خوا ہیں لکھی ہیں جن میں گویا روحانی طور پر ان کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ عاجز منجانب اللہ ہے اور اس عاجز کے مخالف باطل پر ہیں اور نیز وہ اپنی خوابوں کی بناء پر اپنی معیت دائمی ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اس جہان اور اس جہان میں ہمارے ساتھ ہیں ایسا ہی لوگوں میں بکثرت انہوں نے یہ خواہیں مشہور کی ہیں اور اپنے مریدوں اور مخلصوں کو بتلائیں اب ظاہر ہے کہ جس شخص نے اس قدر جوش سے اپنا اخلاص ظاہر کیا ایسے شخص کی حالت موجودہ کی نسبت اگر خدائے تعالیٰ کا الہام ہو کہ یہ شخص اس وقت ثابت قدم ہے متزلزل نہیں تو کیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا بہت سے الہامات صرف موجودہ حالات کے آئینہ ہوتے ہیں عواقب امور سے ان کو کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے اس کے سوء خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جلّ شانہ