آسمانی فیصلہ — Page 356
روحانی خزائن جلد۴ ۳۵۶ آسمانی فیصلہ بالا تفاق شائع کر دیں کہ ہم مقابلہ نہیں کر سکتے اور مومنین کا ملین کے علامات ہم میں پائے نہیں جاتے اور نیز لکھ دیں کہ ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اس شخص پہنے اس عاجز کے نشانوں کو دیکھ کر بلا عذر قبول کر لیں گے اور عوام کو قبول کرنے کیلئے فہمائش بھی کر دیں گے اور نیز دعوئی کو بھی تسلیم کر لیں گے اور تکفیر کے شیطانی منصوبوں سے باز آجائیں گے اور اس عاجز کو مومن کامل سمجھ لیں گے تو اس صورت میں یہ عاجز عہد کرتا ہے کہ اللہ جل شانہ کے فضل و کرم سے یکطرفہ نشانوں کا ثبوت ان کو دے گا اور امید رکھتا ہے کہ خداوند قوی و قدیر ان کو اپنے نشان دکھائے گا اور اپنے بندہ کا حامی اور ناصر ہوگا اور صدقاً وفا اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔ لیکن اگر وہ لوگ ایسی تحریر شائع نہ کریں تو پھر بہر حال مقابلہ ہی بہتر ہے تا ان کا یہ خیال اور یہ غرور کہ ہم مومن کامل اور شیخ الکل اور مقتدائے زمانہ ہیں اور نیز ملہم ۱۴) اور مکالمات الہیہ سے مشرف ہیں مگر یہ شخص کافر اور دجال اور کتے سے بدتر ہے اچھی طرح انفصال پا جائے اور اس مقابلہ میں ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ جو فیصلہ ہماری طرف سے یکطرفہ طور پر ایک مدت دراز کو چاہتا ہے وہ مقابلہ کی صورت میں صرف تھوڑے ہی دنوں میں انجام پذیر ہو جائے گا سو یہ مقابلہ اس امر متنازعہ کے فیصلہ کرنے کیلئے کہ در حقیقت مومن کون ہے اور کافروں کی سیرت کون اپنے اندر رکھتا ہے نہایت آسان طریق اور نزدیک کی راہ ہے۔ اس سے جلد نزاع کا خاتمہ ہو جائے گا گویا صد ہا کوس کا فاصلہ ایک قدم پر آجائے گا۔ اور خدائے تعالیٰ کی غیرت جلد تر دکھا دے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے اور اس مقابلہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں فریقین کو نکتہ چینی کی گنجائش نہیں رہتی اور نہ ناحق کے عذروں اور بہانوں کی کچھ پیش جاتی ہے لیکن یکطرفہ نشانوں میں بداندیش کی نکتہ چینی عوام کا لانعام کو دھوکہ میں ڈالتی ہے یہ بھی جاننے والے جانتے ہیں کہ یکطرفہ نشان بہت سے آج تک اس عاجز سے ظہور میں آچکے ہیں جن کے دیکھنے والے زندہ موجود ہیں مگر کیا علماء با وجو دثبوت پیش کرنے کے ان کو قبول کر لیں گے ہر گز نہیں۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ یہ تمام کلمات اور یہ طریق جو اختیار کیا گیا ہے یہ محض ان منکروں کا جلدی فیصلہ کرنے کے ارادہ سے اور نیز اسکات وانجام کے خیال اور ان پر اتمام حجت کی غرض سے اور سچائی کا کامل جلوہ دکھانے کی نیت سے اور اس پیغام کے پہنچانے کیلئے ہے جو اس عاجز کو منجانب اللہ دیا گیا ہے ورنہ نشانوں کا ظاہر ہونا ان کے مقابلہ پر موقوف نہیں نشانوں کا سلسلہ تو ابتداء سے جاری ہے اور ہر یک صحبت میں رہنے والا بشر طیکہ صدق اور استقامت سے رہے کچھ نہ کچھ دیکھ سکتا ہے اور آئندہ بھی خدائے تعالی اس سلسلہ کو بے نشان نہیں