آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 355

روحانی خزائن جلد۴ ۳۵۵ آسمانی فیصلہ طالب حق اور حق پسند ایسے جواب کو پسند نہیں کرے گا بلکہ منصف لوگ اس کو تأسف کی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ ممکن ہے کہ کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ جو شخص مسیح موعود ہونے کا مدعی ہو وہ کیوں خود یکطرفہ طور پر ایسے نشان نہیں دکھلاتا جن سے لوگ مطمئن ہو جائیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام لوگ علماء کے تابع ہیں اور علماء نے اپنے اشتہارات کے ذریعہ سے عوام میں یہ بات پھیلا دی ہے کہ شخص کافر اور دقبال ہے اگر کتنے ہی نشان دکھاوے تو بھی قبول کے لائق نہیں چنانچہ شیخ بٹالوی نے اپنے ایک لمبے اشتہار میں جس کو اس نے لدھیانہ کی بحث کے بعد چھاپا ہے یہی باتیں صاف صاف لکھ دی ہیں اور بڑے انکار اور عناد کی راہ سے اس عاجز کی نسبت بیان کیا ہے کہ یہ شخص جو آسمانی نشانوں کے دکھلانے کی طرف دعوت کرتا ہے اس کی اس دعوت کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ نشان تو ابن صیاد سے بھی ظاہر ہوتے تھے اور دجال معہود بھی دکھلائے گا پھر نشانوں کا کیا اعتبار ہے ماسوا اس کے میں یہ بھی سنتا ہوں اور اپنے مخالفوں کے اشتہارات میں پڑھتا ہوں کہ وہ میرے یکطرفہ نشانوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور محض شرارت کی راہ سے کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص کوئی بچی خواب بتلاتا ہے یا کوئی الہامی پیشگوئی ظاہر کرتا ہے تو ان امور میں اس کی خصوصیت کیا ہے کافروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی ہیں بلکہ کبھی ان کی دعائیں بھی قبول ہو جاتی ہیں کبھی ان کو پیش از وقت کوئی بات بھی معلوم ہو جاتی ہے بعض قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ یہ بات تو ہمیں بھی حاصل ہے اور نہیں جانتے کہ فقط ایک درم سے گدا تو نگر نہیں کہلا سکتا اور ایک ذرہ سی روشنی سے کرمک شب تاب کو سورج نہیں کہہ سکتے لیکن بغیر مقابلہ کے یہ لوگ کسی طرح سمجھ نہیں سکتے مقابلہ کے وقت انہیں اختیار ہے کہ اگر آپ عاجز آجائیں تو دس بیس کا فر ہی اپنے ساتھ شریک کر لیں۔ غرض جب کہ مولویوں نے یکطرفہ نشانوں کو منظور ہی نہیں کیا اور مجھے کافر ہی ٹھہراتے ہیں اور میرے نشانوں کو استدراج میں داخل کرتے یا تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں تو پھر یکطرفہ نشانوں سے کیا اثر مترتب ہوگا اور عوام جن کے دل اور کان ایسی باتوں سے پُر کئے گئے ہیں ایسے نشانوں سے کیونکر مطمئن ہوں گے لیکن ایمانی نشانوں کے دکھلانے کا باہم مقابلہ ایک ایسا صاف اور روشن امر ہے کہ اس میں ان علماء کا کوئی عذر بھی پیش نہیں جا سکتا اور نیز جس قدر مقابلہ کے وقت کھلے کھلے طور پر حق ظاہر ہوتا ہے ایسی کوئی اور صورت حق کے ظاہر ہونے کی نہیں ہاں اگر یہ لوگ اس مقابلہ سے عاجز ہوں تو پھر ان پر واجب ہے کہ اپنی طرف سے ایک اشتہار به ثبت مواہیر