آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 354

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۵۴ آسمانی فیصلہ و مرتبہ کے بعد لائق رحم ذلت میں پڑا ہو اور کوئی کسی ظالم کے پنجہ میں گرفتار ہو۔ اور کوئی فوق الطاقت اور غیر معمولی قرضہ کی بلا سے جان بلب ہو اور کسی کا جگر گوشہ دین اسلام سے مرند ہو گیا ہو اور کوئی کسی ایسے غم و قلق میں گرفتار ہو جس کو ہم اس وقت بیان نہیں کر سکے ۔ اور علامت چہارم یعنے معارف قرآنی کا کھلنا اس میں احسن انتظام یہ ہے کہ ہر یک فریق چند آیات قرآنی کے معارف و حقائق ولطائف لکھ کر انجمن میں مین جلسہ عام میں سناوے پھر اگر جو کچھ کسی فریق نے لکھا ہے کسی پہلی تفسیر کی کتاب میں ثابت ہو جائے تو یہ شخص محض ناقل متصور ہو کر مورد عتاب ہو لیکن اگر اس کے بیان کردہ حقائق و معارف جو فی حد ذاتها صحیح اور غیر مخدوش بھی ہوں ایسے جدید اور نو وارد ہوں جو پہلے مفسرین کے ذہن ان کی طرف سبقت نہ لے گئے ہوں اور با اینہمہ وہ معنے من کل الوجوہ تکلف سے پاک اور قرآن کریم کے اعجاز اور کمال عظمت اور شان کو ظاہر کرتے ہوں اور (۱۳) اپنے اندر ایک جلالت اور ہیبت اور سچائی کا نور رکھتے ہوں تو سمجھنا چاہئے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو خداوند تعالیٰ نے اپنے مقبول کی عزت اور قبولیت اور قابلیت ظاہر کرنے کیلئے اپنے لدنی علم سے عطا فرمائی ہیں یہ ہر چہار محک امتحان جو میں نے لکھی ہیں یہ ایسی سیدھی اور صاف ہیں کہ جو شخص غور کے ساتھ ان کو زیر نظر لائے گا وہ بلاشبہ اس بات کو قبول کر لے گا کہ متخاصمین کے فیصلہ کیلئے اس سے صاف اور سہل تر اور کوئی روحانی طریق نہیں اور میں اقرار کرتا ہوں اور اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو گیا تو اپنے ناحق پر ہونے کا خود اقرار شائع کر دوں گا اور پھر میاں نذیر حسین صاحب اور شیخ بٹالوی کی تکفیر اور مفتری کہنے کی حاجت نہیں رہے گی اور اس صورت میں ہر ایک ذلت اور توہین اور تحقیر کا مستوجب و سزا وار ٹھہروں گا اور اسی جلسے میں اقرار بھی کر دوں گا کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور میرے تمام دعاوی باطل ہیں اور بخدا میں یقین رکھتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ میرا خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا اور کبھی مجھے ضائع ہونے نہیں دے گا۔ اب علماء مذکورہ بالا کا اس صاف اور صریح امتحان سے انحراف کرنا [ اگر وہ انحراف کریں ] نہ صرف بے انصافی ہوگی بلکہ میرے خیال میں وہ اس وقت چپ رہنے سے یا صرف مغشوش اور غیر صحیح جوابوں پر کفایت کرنے سے دانش مند لوگوں کو اپنے پر سخت بدگمان کر لیں گے اگر وہ اس وقت ایسے شخص کے مقابل پر جو کچے دل سے مقابلہ کیلئے میدان میں کھڑا ہے محض حیلہ سازی سے بھرا ہوا کوئی ملمع جواب دیں گے تو یاد رکھیں کہ کوئی