آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 351

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۵۱ آسمانی فیصلہ جو تیار ہوں گی ایک ایک نقل ان کی انجمن بھی اپنے دفتر میں رکھے گی اور یہی دن سال مقررہ میں سے پہلا دن شمار کیا جائے گا ہر ایک فریق اپنے حصہ کے مصیبت رسیدوں کیلئے دعا کرتا رہے گا اور بدستور مذکور و و تمام کارروائی انجمن کی رجسٹر میں درج ہوتی رہے گی۔ اور اگر ایک سال کے عرصہ میں اور اس وقت سے پہلے جو کثرت قبولیت اور غلبہ صریحہ کا اندازہ پیدا ہو کوئی فریق وفات پا جائے اور اپنے مقابلہ کے تمام امر کو نا تمام چھوڑ جائے تب بھی وہ مغلوب سمجھا جائے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے خاص ارادہ سے اس کے کام کو نا تمام رکھا تا اس کا باطل پر ہونا ظاہر کرے۔ اور مصیبت رسیدوں کا اندازہ کثیرہ اس لئے شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ قبولیت دعا کا امتحان صرف باعتبار کثرت ہو سکتا ہے ورنہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ ممکن ہے کہ اگر دعا کرانے والے صرف چند آدمی ہوں مثلا دو یا تین شخص ہوں تو وہ اپنی ناکامی میں تقدیر مبرم رکھتے ہوں یعنی ارادہ ازلی میں قطعی طور پر یہی مقدر ہو کہ یہ ہرگز اپنی بلاؤں سے مخلصی نہیں پائیں گے اور اکثر ایسا اتفاق اکابر اولیاء اور انبیاء کو پیش آتا رہا ہے کہ ان کی دعاؤں کے اثر سے بعض آدمی محروم رہے اس کی یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ اپنی ناکامی میں تقدیر مبرم رکھتے تھے لہذا ایک یا دو بلا رسیدوں کو معیار آزمائش ٹھہرانا ایک دھوکہ دینے والا طریق ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی میں تقدیر مبرم رکھتے ہوں پس اگر وہ دعا کیلئے کسی مقبول کی طرف رجوع کریں اور اپنی تقدیر مبرم کی وجہ سے ناکام رہیں تو اس صورت میں اس بزرگ کی قبولیت ان پر مخفی رہے گی بلکہ شاید وہ اپنے خیال کو بدلنی کی طرف کھینچ کر اس خدا رسیدہ سے بداعتقاد ہوجائیں اور اپنی دنیا کے ساتھ اپنی عاقبت بھی خراب کر لیں کیونکہ اس طرز آزمائش میں بعض لوگوں نے نبیوں کے وقت میں بھی ٹھوکریں کھائی ہیں اور مرتد ہونے تک نوبت پہنچی ہے اور یہ بات ایک معرفت کا دقیقہ ہے کہ مقبولوں کی قبولیت کثرت استجابت دعا سے شناخت کی جاتی ہے یعنی ان کی اکثر دعائیں قبول ہو جاتی ہیں نہ یہ کہ سب کی سب قبول ہوتی ہیں۔ پس جب تک کہ رجوع کرنے والوں کی تعداد کثرت کی مقدار تک نہ پہنچے تب تک قبولیت کا پتہ نہیں لگ سکتا۔ اور کثرت کی پوری حقیقت اور عظمت اس وقت بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ جب کہ مومن کامل مستجاب الدعوات کا اس کے غیر سے مقابلہ کیا جائے ورنہ ممکن ہے کہ ایک بد باطن نکتہ چین کی نظر میں وہ کثرت بھی قلت کی صورت میں نظر آوے سو در حقیقت کثرت استجابت دعا ایک نسبتی امر ہے جس کی صحیح اور یقینی اور قطعی تشخیص جو منکر کے منہ کو بند کرنے والی ہو مقابلہ سے