آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 345

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۴۵ آسمانی فیصلہ مقابل پر جو مجھے آسمان سے عطا کی گئی ہے ان سفلی ملاؤں کو سراسر بے بصر سمجھتا ہوں اور بخدا ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر بھی میں انہیں خیال نہیں کرتا کیا کوئی زندہ مردوں سے ڈرا کرتا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ علم دین ایک آسمانی بھید ہے اور وہی کماحقہ آسمانی بھید جانتا ہے جو آسمان سے فیض پاتا ہے جو خدائے تعالی تک پہنچتا ہے وہی اس کی کلام کے اسرار عمیقہ تک بھی پہنچتا ہے جو پوری روشنی میں نشست رکھتا ہے وہی ہے جو پوری بصیرت بھی رکھتا ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جاتا کہ میں ان کی گندی گالیوں سے ڈر گیا اور ان کی نجاست سے بھری ہوئی باتوں سے میں ترساں ہوا تو شاید کسی قدر سچ بھی ہوتا کیونکہ ہمیشہ شرفاء بد گفتار لوگوں سے ڈرا کرتے ہیں اور مہذب لوگ گندی زبان والوں سے پر ہیز کر جاتے ہیں۔ شریف از سفلہ ممے ترسد بلکه از سفالگی او مے ترسد ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالی کا ارادہ تھا کہ میاں نذیر حسین کی پردہ دری کرے اور ان کی آواز دہل کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کر دیوے سو بالغ نظر جانتے ہیں کہ وہ خواستہ ایزدی پورا ہو گیا اور نذیر حسین کے تقویٰ اور خدا پرستی اور علم اور معرفت کی ساری قلعی کھل گئی اور ترک تقویٰ کی شامت سے ایک ذلت ان کو پہنچ گئی مگر ایک اور ذلت ابھی باقی ہے جوان کیلئے اور ان کے ہم خیال لوگوں کے لئے طیار ہے جس کا ذکر ہم نیچے کرتے ہیں۔ تا شود قطع نزاع وقت نه ها الها الله ل ای خدای مالک ارض و سما امر صیل از جناب خود نما ای پناه حزب خود در هر کلا ای تیم دوست گیرد به منا اینکه در دست تو فصل بہت قیمین نتخت شوری اوفتا ر ان زمین ستی کا مٹا جاتا ہے نام ری کرشمہ اپنی قدرت کا در کرا برده کوسب قدرت اور بالادرا ی رحم کن برخلق امی جان آذین اسمانی فیصلہ اک نشان د کلا که مو محبت تمام قبل اس کے جو میں آسمانی فیصلہ کا ذکر کروں صفائی بیان کیلئے اس قدرلکھنا ضرور ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے