آسمانی فیصلہ — Page 344
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۴۴ آسمانی فیصلہ کرائی بھی اور بٹالوی کی کوئی بدگوئی میاں صاحب کو مکر وہ معلوم نہ ہوئی اور میاں صاحب کے مکان میں بیٹھ کر ایک اور اشتہار تکبر کا بھرا ہوا بٹالوی نے لکھا جس میں اس عاجز کی نسبت یہ فقرہ درج تھا کہ یہ میرا شکار ہے کہ بد قسمتی سے پھر دہلی میں میرے قبضہ میں آ گیا اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھاگا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔ ناظرین !! انصافا کہو کہ یہ کیسے سفلہ پن کی باتیں ہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے مہذب ڈوم اور نقال بھی تھوڑا بہت حیا کو کام میں لاتے ہیں اور پشتوں کے سفلے بھی ایسا کمینگی اور شیخی سے بھرا ہوا تکبر اپنے حقیقت شناس کے سامنے زبان پر نہیں لاتے ۔ اگر میں بٹالوی صاحب کا شکار ہوتا تو اس کے استاد کو دہلی میں کیوں جا پکڑتا کیا شاگرد استاد سے بڑا ہے جب استاد ہی چڑیا کی طرح میرے پنجہ میں گرفتار ہو گیا تو پھر ناظرین سمجھ لیں کہ کیا میں بٹالوی کا شکار ہوا یا بٹالوی میرے شکار کا شکار بٹالوی کی شوخیاں انتہا کو پہنچ گئی ہیں اور اس کی کھوپڑی میں ایک کیڑا ہے جس کو ضرور ایک دن خدائے تعالیٰ نکال دے گا افسوس کہ آج کل ہمارے مخالفوں کا جھوٹ اور بہتانوں پر ہی گزارہ ہے اور فرعونی رنگ کے تکبر سے اپنی عزت بنانی چاہتے ہیں۔ فرعون اس روز تک جو معہ اپنے لشکر کے غرق ہو گیا یہی سمجھتا رہا کہ موسیٰ اس کا شکار ہے آخر رود نیل نے دیکھا دیا کہ واقعی طور پر کون شکار تھا۔ میں نادم ہوں کہ نا اہل حریف کے مقابلہ نے کسی قدر مجھے درشت الفاظ پر مجبور کیا ورنہ میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔ میں کچھ بھی بولنا نہیں چاہتا تھا مگر بٹالوی اور اس کے استاد نے مجھے بلایا۔اب بھی بٹالوی کیلئے بہتر ہے کہ اپنی پالیسی بدل لیوے اور منہ کو لگام دیوے ورنہ ان دنوں کو رورو کے یاد کرے گا۔ بادردکشاں ہر کہ در افتاد در افتاد وما علينا الا البلاغ المبين گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو جولوگ ان جھوٹے اشتہارات پر خوش ہو رہے ہیں جن میں میاں نذیر حسین کی مصنوعی فتح کا ذکر ہے میں خالصا للہ ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس دروغ گوئی میں ناحق کا گناہ اپنے ذمہ نہ لیں میں ۲۳ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں مفصل بیان کر چکا ہوں کہ میاں صاحب ہی بحث کرنے سے گریز کر گئے یہ کیا شرارت اور بے حیائی کا بہتان ہے کہ میری نسبت اڑایا گیا ہے کہ گویا میں میاں نذیر حسین سے ڈر گیا نعوذ باللہ میں ہرگز ان سے نہیں ڈرا اور کیونکر ڈرتا میں اس بصیرت کے