آسمانی فیصلہ — Page 343
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۴۳ آسمانی فیصلہ کتے کی موت سے مرے گا اور عام تحریروں میں اس عاجز کا نام کا فر اور دجال رکھا اور اا۔ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے کارڈ میں جو اس نے منشی فتح محمد اہلکار ریاست جموں کے نام لکھا جو اس وقت میرے پاس سامنے پڑا ہے بجز گالیوں کے اور کچھ تحریر نہیں کیا کھلی تحریر میں سخت گالیاں دینا اور کارڈوں میں جن کو ہر ایک شخص پڑھ سکتا ہے بدزبانی کرنا اور اپنے مخالفانہ جوش کو انتہا تک پہنچانا کیا اس عادت کو خدا پسند کرتا ہے یا اس کو شیوہ شرفاء کہہ سکتے ہیں اس گیارہ اکتوبر کے کارڈ میں اس بزرگ نے بڑے جوش سے اس ناکارہ کی نسبت لکھا ہے کہ یہ شخص در حقیقت کا فر ہے دجال ہے ملحد ہے کذاب ہے۔اے میرے مولیٰ اے میرے پیارے آقا میں نے اس شخص کی تمام سخت باتوں اور لعنتوں اور گالیوں کا جواب تیرے پر چھوڑا۔ اگر تیری یہی مرضی ہے تو جو کچھ تیری مرضی وہ میری ہے مجھے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہئے کہ تو راضی ہو میرا دل تجھ سے پوشیدہ نہیں تیری نگاہیں میری تہہ تک پہنچی ہوئی ہیں اگر مجھ میں کچھ فرق ہے تو نکال ڈال اور اگر تیری نگاہ میں مجھ میں کچھ بدی ہے تو میں تیرے ہی منہ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے پیارے ہادی !! اگر میں نے ہلاکت کی راہ اختیار کی ہے تو مجھے اس سے بچا اور وہ کام کرا کہ جس میں تیری رضامندی ہو۔ میری روح بول رہی ہے کہ تو میرے لئے ہے اور ہو گا جب سے کہ تو نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور جب سے کہ تو نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اِنِّی مُهِينٌ من اراد اهانتک اور جب سے کہ تو نے دل جوئی اور نوازش کی راہ سے مجھے کہا کہ انت منی بمنزلة لا يعلمها الخلق تو اسی دم سے میرے قالب میں جان آگئی تیری دل آرام با تیں میرے زخموں کی مرہم ہیں تیرے محبت آمیز کلمات میرے غم رسیدہ دل کے مفرح ہیں۔ میں غموں میں ڈوبا ہوا تھا تو نے مجھے بشارتیں دیں۔ میں مصیبت زدہ تھا تو نے مجھے پوچھا پیارے میرے لئے یہ خوشی کافی ہے کہ تو میرے لئے اور میں تیرے لئے ہوں ۔ تیرے حملے دشمنوں کی صف توڑیں گے اور تیرے تمام پاک وعدے پورے ہوں گے تو اپنے بندہ کا آمرزگار ہوگا۔ پھر میں پہلی کلام کی طرف رجوع کر کے ناظرین پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جس قدر میں نے بٹالوی کی سخت زبانی لکھی ہے وہ صرف بطور نمونہ کے بیان کی گئی ہے ورنہ اس شخص کی بدزبانی کا کچھ انتہا نہیں رہا اور در حقیقت یہ ساری بد زبانی میاں نذیر حسین صاحب کی ہے کیونکہ استاد کے خلاف منشاء شاگرد کو بھی جرات نہیں ہوتی میاں صاحب نے آپ بھی بدزبانی کی اور