آسمانی فیصلہ — Page 338
روحانی خزائن جلد۴ ۳۳۸ آسمانی فیصلہ ان تمام اقرارات کے صاف لکھا کہ تم پر کفر کا فتویٰ ہو چکا اور ہم تم کو کافر اور بے ایمان سمجھتے ہیں بلکہ ۲۰ / اکتوبر ۱۸۹۱ء میں جو تاریخ بحث مقرر کی گئی تھی جس سے پہلے اشتہارات مذکورہ جاری ہو چکے تھے میاں صاحب کی طرف سے بحث ٹالنے کیلئے بار بار یہی عذر تھا کہ تم کافر ہو پہلے اپنا عقیدہ تو مطابق اسلام ثابت کرو پھر بحث بھی کرنا۔ اس وقت بھی بنما مترادب یہی کہا گیا کہ میں کا فرنہیں ہوں بلکہ ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ جل شانہ نے مسلمانوں کیلئے عقائد ٹھہرائے ہیں بلکہ جیسا کہ اشتہار ۲۳ اکتوبر ۱۸۹۱ء میں درج ہے میں نے اپنے ہاتھ سے ایک تحریر بھی لکھ کر دی کہ میں ان تمام عقائد پر ایمان رکھتا ہوں مگر افسوس کہ میاں صاحب موصوف پھر بھی اس عاجز کو کافر ہی جانتے رہے اور کافر ہی لکھتے رہے اور یہی ایک بہانہ ان کے ہاتھ میں تھا جس کی وجہ سے مسیح کی وفات حیات کے بارے میں انہوں نے مجھ سے بحث نہ کی کہ یہ تو کا فر ہے کافروں سے کیا بحث کریں اگر ان میں ایک ذرہ تقوی ہوتی تو اسی وقت سے جو میری طرف سے عقائد اسلام اور اپنے مسلمان ہونے کا اشتہار جاری ہوا تھا تکفیر کے فتوے سے دستکش ہو جاتے اور جیسا کہ ہزاروں لوگوں میں تکفیر کے فتوے کو مشہور کیا تھا ایسا ہی عام جلسوں میں اپنی خطا کا اقرار کر کے میرے اسلام کی نسبت صاف گواہی دیتے اور ناحق کے سو ظن سے اپنے تئیں بچاتے اور خلاف واقعہ تکفیر کی شہرت کا تدارک کر کے اپنے لئے خدائے تعالیٰ کے نزدیک ایک عذر پیدا کر لیتے لیکن انہوں نے ہر گز ایسا نہ کیا بلکہ جب تک میں دہلی میں رہا یہی سنتا رہا کہ میاں صاحب اس عاجز کی نسبت گندے اور نا گفتنی الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہیں اور تکفیر سے دست بردار نہیں ہوئے اور ہر چند کوشش کی گئی کہ وہ اس نالائق طریق سے باز آجائیں اور اپنی زبان کو تھام لیں لیکن اس عاجز کی نسبت کا فر کا فر کہنا ایسا ان کی زبان پر چڑھ گیا کہ وہ اپنی زبان کو روک نہیں سکے اور نفس امارہ نے ایسا ان کے دل پر قبضہ کر لیا کہ خدائے تعالیٰ کے خوف کا کوئی خانہ خالی نہ رہا فاعتبروا یا اولی الابصار ۔ اب میں ان کی تکفیر کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا۔ ہر یک شخص اپنی گفتار و کردار سے پوچھا جائے گا۔ ان کے اعمال ان کے ساتھ اور میرے اعمال میرے ساتھ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ناحق کے الزاموں اور مفتریا نہ کاموں کی طرف انھوں نے توجہ کی اور جو اصل بحث کے لائق اور متنازعہ فیہ امر تھا یعنے وفات مسیح علیہ السلام اس کی طرف