آسمانی فیصلہ — Page 337
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۳۷ آسمانی فیصلہ ساٹھ یا ستر ہزار کے قریب مسلمان ہو گا لیکن ان میں سے واللہ اعلم شاذ و نادر کوئی ایسا فرد ہو گا جو (۴) اس عاجز کی نسبت گالیوں اور لعنتوں اور ٹھٹھوں کے کرنے یا سننے میں شریک نہ ہوا ہو یہ تمام ذخیرہ میاں صاحب کے ہی اعمال نامہ سے متعلق ہے جس کو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنی عاقبت کیلئے اکٹھا کیا انہوں نے بچی گواہی پوشیدہ کر کے لاکھوں دلوں میں جما دیا که در حقیقت یہ شخص کافر اور لعنت کے لائق اور دین اسلام سے خارج ہے اور میں نے انہیں دنوں میں جب کہ میں دہلی میں مقیم تھا شہر میں تکفیر کا عام غوغا دیکھ کر ایک خاص اشتہا ر انہیں میاں صاحب کو مخاطب کر کے شائع کیا اور چند خط بھی لکھے اور نہایت انکسار اور فروتنی سے ظاہر کیا کہ میں کافر نہیں ہوں ۔ اور خدائے تعالی جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور یہ بھی لکھا کہ میں ملائک کا منکر بھی نہیں بخدا میں اسی طرح ملائک کو مانتا ہوں جیسا کہ شرع میں مانا گیا اور یہ بھی بیان کیا کہ میں لیلتہ القدر کا بھی انکاری نہیں بلکہ میں اس لیلۃ القدر پر ایمان رکھتا ہوں جس کی تصریح قرآن اور حدیثوں میں وارد ہو چکی ہے اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ میں وجود جبرائیل اور وحی رسالت پر ایمان رکھتا ہوں انکاری نہیں اور نہ حشر و نشر اور یوم البعث سے منکر ہوں اور نہ خام خیال نیچریوں کی طرح اپنے مولیٰ کی کامل عظمتوں اور کامل قدرتوں اور اس کے نشانوں میں شک رکھتا ہوں اور نہ کسی استبعاد منقلی کی وجہ سے معجزات کے ماننے سے منہ پھیرنے والا ہوں اور کئی دفعہ میں نے عام جلسوں میں ظاہر کیا کہ خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرتوں پر میرا یقین ہے بلکہ میرے نزدیک قدرت کی غیر محدودیت الوہیت کا ایک ضروری لازمہ ہے اگر خدا کو مان کر پھر کسی امر کے کرنے سے اس کو عاجز قرار دیا جائے تو ایسا خدا خدا ہی نہیں اور اگر نعوذ باللہ وہ ایسا ہی ضعیف ہے تو اس پر بھروسہ کرنے والے جیتے ہی مرگئے اور تمام امیدیں ان کی خاک میں مل گئیں بلا شبہ کوئی بات اس سے انہونی نہیں ہاں وہ بات ایسی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی شان اور تقدس کو زیبا ہو اور اس کے صفات کا ملہ اور اس کے مواعید صادقہ کے برخلاف نہ ہو۔ لیکن میاں صاحب نے باوجود میرے