آریہ دھرم — Page 55
روحانی خزائن جلد ۱۰ آریہ دھرم شاید تم آئندہ باز آ جاؤ۔ اب ہم ان آریوں کے اس پر افترا اعتراض کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو اُنہوں نے زینب کے نکاح کی نسبت تراشا ہے۔ ان مفتری لوگوں نے اعتراض کی بنا دو باتیں ٹھہرائی ہیں (۱) یہ کہ متبنی اگر اپنی جور و کو طلاق دے دیوے تو متبنی کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہیں (۲) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھی تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ سو ہم ان دونوں باتوں کا ذیل میں جواب دیتے ہیں۔ امر اول کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ متبنی کرتے ہیں ان کا یہ دعوی سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹیوں کے تمام احکام اُس کے متعلق ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ قانون قدرت اس بیہودہ دعوے کو رد کرتا ہے اس لئے کہ جس کا نطفہ ہوتا ہے اس کے اعضاء میں سے بچہ کے اعضاء حصہ لیتے ہیں اُسی کے قوی کے مشابہ اُس کے قومی ہوتے ہیں اور اگر وہ انگریزوں کی طرح سفید پس جس حالت میں ہندوؤں کی عورتیں ایسی آزاد ہیں کہ خاوند مثلاً نوکر چاکر ہے کوئی مفقود بقيه الخبر اور گمشدہ نہیں خط روز آتے ہیں مقام شہر کا نام معلوم ہے اگر چاہیں تو آسانی سے حاشیہ وہاں جاسکتے ہیں مگر پھر بھی دید نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ضرورت شہوت کے وقت میں خاوندوں کے پاس چلی جائیں خاص کر جب خاوند ایک جگہ نوکر اور بڑے معزز عہدہ پر ہو مثلاً ڈپٹی کمشنر ہو تو روپیہ کی بھی کمی نہیں مگر پھر بھی دید نے زنا کاری کی رغبت دی اس سے معلوم ہوا کہ وید کے ریشیوں کو زنا بہت ہی پیارا تھا تبھی تو حلال وجہ کے جماع کی پرواہ نہ رکھ کر نیوگ کو ہی پسند کیا بہر حال جس حالت میں وید کی آگیا کے بموجب اس صورت میں بھی ایک ہندو عورت نیوگ کر اسکتی ہے جبکہ ایک جگہ خاوند نوکر ہو اور وید نے یہ حکم نہیں دیا کہ عورت خاوند کے پاس چلی جاوے بلکہ نیوگ کرانے کی اجازت دے دی ہے تو پھر جب کوئی آریہ جیل (۳۹) خانہ میں قید ہو تو اس صورت میں تو ہندو عورت کو نیوگ کے لئے اعلیٰ درجہ کا حق پیدا ہوگا کیونکہ وہ جیل خانہ میں نہیں جاسکتی تھی۔