آریہ دھرم — Page 53
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۵۳ آریہ دھرم تک نیا نکاح اس سے نہیں ہو سکتا (یعنی ایسے شخص کی سزا یہی ہے جو باوجود ہدایت متذکرہ بالا کے پھر نہ سمجھے اور چونکہ یہ عورت اب اُس کی عورت نہیں رہی اس لئے وہ خاوند کرنے میں اختیار کلی رکھتی ہے) اور پھر فرمایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ مدت مقررہ تک پہنچ جائیں اور عدت کی میعاد گذر جائے تو اُن کو نکاح کرنے سے مت روکو یعنی جب تین حیض کے بعد تین طلاقیں ہو اسے ہم کی چکیں عدت بھی گزرگئی تو اب وہ عورتیں تمہاری عورتیں نہیں ان کو نکاح کرنے سے مت روکو اور خدا سے ڈرو اور ان کو عدت کے دنوں میں گھروں میں سے مت نکالومگر یہ کہ کوئی کھلی کھلی بدکاری اُن سے ظاہر ہو اور جب تین حیض کی مدت گذر جائے تو پھر بعد اس کے احسان کے ساتھ رکھ لو یا احسان کے ساتھ اُس کو رخصت کر دو۔ اگر کوئی تم میں سے خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور کسی بے ثبوت شبہ پر بگڑ نہیں جائے گا تو خدا اس کو تمام مشکلات سے رہائی دے گا اور اس کو ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اُسے علم نہیں ہوگا کہ مجھے کہاں سے رزق آتا ہے اور جو عورتیں حیض سے نومید ہو گئی ہیں ان کی مہلت طلاق بجائے تین حیض کے تین مہینہ ہیں اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا خدا اُس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تمہاری طرف اتارا گیا اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور حتی الوسع طلاق سے دستبردار رہے گا خدا اُس کے تمام گناہ معاف کر دے گا اور اُس کو بہت بڑا اجر دے گا ملے اگر کوئی عورت اذیت اور مصیبت کا باعث ہو تو ہم کو کیونکر یہ خیال کرنا چاہئے کہ حاشیه خدا ہم سے ایسی عورت کے طلاق دینے سے ناخوش ہو گا۔ میں دل کی سختی کو اُس شخص سے منسوب کرتا ہوں جو اس عورت کو اپنے پاس رہنے دے نہ اُس شخص سے جو اس کو ایسی صورتوں میں اپنے گھر سے نکال دے ناموافقت سے عورت کو رکھنا ایسی سختی ہے جس میں طلاق سے زیادہ بے رحمی سے طلاق ایک مصیبت ہے جو ایک بدتر مصیبت کے عوض اختیار کی جاتی ہے تمام معاہدے بدعہدی سے ٹوٹ جاتے ہیں پھر اس پر کون سی معقول دلیل ہے کہ نکاح کا معاہدہ ٹوٹ نہیں سکتا