آریہ دھرم — Page 39
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹ آریہ دھرم کیا کام کیونکہ وہ جسم تو اُسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اُس کو کاٹ کر پھینک دیا اب جبکہ طلاق کی ایسی صورت ہے کہ اُس میں خاوند خاوند نہیں رہتا اور نہ عورت اُس کی عورت رہتی ہے اور (۳۴) عورت ایسی جدا ہو جاتی ہے کہ جیسے ایک خراب شدہ عضو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے تو ذرہ سوچنا چاہئے کہ طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت ہے طلاق تو اس حالت کا نام ہے کہ جب عورت سے بیزار ☆ حاشیه بعض ہندو نہایت نادانی کی وجہ سے بول اٹھتے ہیں کہ مسلمانوں کی حدیثوں میں لکھا ہے کہ آدم نے بوجہ ضرورت اپنی بیٹیاں اپنے بیٹوں کو بیاہ دی تھیں سو یہ کام کیا نیوگ سے کچھ کم ہے سو ایسے ہندوؤں کو ۳۳ کی یادر ہے کہ یہ بیان نہ قرآن مجید میں پایا جاتا ہے نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں اور اگر ہے تو دکھلاؤ۔ ہاں بعض مسلمانوں کا یہ قول ضرور لکھا ہے کہ حضرت آدم کے وقت چونکہ اور انسان دنیا میں نہ تھے اس لئے خدا نے یہ کیا کہ حوا اُن کی بیوی ہمیشہ لڑکی اور لڑکا تو ام جانتیں اور حضرت آدم پہلے پیٹ کی لڑکی کو دوسرے پیٹ کے لڑکے کے ساتھ شادی کر دیتے لیکن اس قول کا قائل نہ تو قرآن سے کوئی سند لایا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث اس نے پیش کی اس لئے یہ قول مردود ہے اور جس طرح منو یا با وانانک کے ایسے مسائل جو دید کے مخالف ہیں آریہ نہیں مانتے اسی طرح ہم بھی ایسی باتوں کو نہیں مانتے اور حیا اور انصاف کے برخلاف ہے کہ ہمارے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں کہ جو نہ قرآن میں نہ حدیث میں موجود ہیں اور نہ اُن پر مسلمانوں کا عمل ہے اور جس نا معلوم شخص کا یہ قول ہے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے اس بات کے تصور سے کہ حضرت آدم کے وقت میں تو دنیا میں کوئی اور انسان نہیں تھا پھر اُن کی اولاد کے کہاں رشتے ہوئے یہ بات ضرورتاً اپنے دل سے بنائی کہ شاید یہی انتظام ہوگا کہ ذرہ پیٹ کے لحاظ سے تبدیلی کر کے نکاح کرا دیا جاتا ہوگا۔ مگر اُسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ حضرت آدم کی اولاد چالیس لڑکے تھے اور اُن سے پوتے پڑوتے وغیرہ ہو کر حضرت آدم کے جیتے جی چالیس ہزار آدمی دنیا میں ہو گیا تھا اگر اضطراری طور پر کوئی ایسا کام جائز بھی رکھا جاتا تو دور کے رشتوں سے ہوتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جیسے حضرت حوا حضرت آدم کی پہلی سے نکالی گئیں ایسا ہی ہر یک لڑکے کی جورو اُس کے پسلی سے نکالی گئی ہو یا مکن ہے کہ حضرت آدم کی طرح جو رواں بھی الگ پیدا ہوگئی ہوں کیونکہ جس نے آدم کومٹی سے پیدا کیا وہ