آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 550

آریہ دھرم — Page 37

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷ آریہ دھرم اور کوئی چیز پوجنے کے لائق نہیں نہ زمین کی چیزوں میں سے نہ آسمان کی چیزوں میں سے نہ ۳۲) چاند نہ سورج نه وایو نہ جل اگر کوئی ایسی شرتی ہے تو بھلا پنڈت جی پیش تو کر دسو ایک تو دید کی اسی خرابی پر رونا آتا تھا اب دوسری خوبی وید کی یہ بھی معلوم ہوئی کہ وید پاکدامن عورتوں کی عزت کو بھی خراب کرنا چاہتا ہے اگر خواہ نخواہ بناوٹی اولاد کے لئے تعلیم تھی تو یہ کہنا کافی تھا کہ گود میں بچہ لے لو حالانکہ وید نے آپ ہی بتلایا تھا کہ گود لینے سے بھی منبتی ہو سکتا ہے پھر اُس سے کنارہ کرنا اور نیوگ کو واجب ٹھہرانا بجز حرام کاری شائع کرانے کے اور کس بناء پر مبنی ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں کہہ کر رام دئی نے رود یا کہ در حقیقت وید ہی نے آریہ ورث کا ستیا ناش کر دیا اگر وید آتش پرستی کی تعلیم نہ کرتا تو وہ لاکھوں آدمی اس دیس میں ہرگز نہ پائے جاتے جو اس زمانہ میں بھی اگنی پوجا میں مشغول ہیں جن چیزوں کی وید نے تعظیم بیان کی انہیں چیزوں کی ہماری قوم میں قدیم سے پرستش جاری ہے پھر رام دئی نے پنڈت کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ یہ جو تو نے کہا کہ آریوں میں نیوگ ایسا ہے جیسا کہ مسلمانوں میں طلاق اس سے معلوم ہوا کہ تم اس گند کو کسی طرح چھوڑنا نہیں چاہتے اور زور لگا رہے ہو کہ کسی طرح یہ چھپا ہی رہے بھلا پنڈت جی طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت اور نیوگ کو طلاق سے کیا نسبت ۔ مسلمان ہمارے پڑوسی ہیں اور اس بات کو ہم خوب جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضرور یہ میں سے ہے اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے صرف یہ فرق ہے کہ اگر مرد کی طرف سے شرائط ٹوٹ جائیں تو عورت خود بخو دنکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود بخو دنکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کو توڑا سکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کر اسکتی ہے اور یہ کمی اختیار اُس کی فطرتی شتاب کاری اور نقصان عقل کی وجہ سے ہے لیکن مرد جیسا کہ اپنے اختیار سے معاہدہ نکاح کا باندھ سکتا ہے ایسا ہی عورت کی طرف سے