آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 550

آریہ دھرم — Page 31

روحانی خزائن جلد ۱۰ ٣١ آریہ دھرم ایک معزز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رو سے حرام ہے آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرائیے اولاد بہت ہو جائے گی ایک بول اٹھتا ہے کہ مہر سنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے اس کام کے بہت لائق ہے لالہ بہاری لال نے اُس سے نیوگ کرایا تھا لڑ کا پیدا ہو گیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہو گیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں ۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے رات کو آ جائے گا ۔ مہر سنگھ کو خبر دی گئی وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کا ر تھا سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اُس کو کیا چاہئے تھا ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت شام ہوتے ہی آموجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوار کھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھا پی لیوے۔ پھر کیا تھا آتے ہی اس بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بد بخت عورت تمام رات اُس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا نہایت قابل شرم اُس عورت سے حرکتیں کیں اور لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام ۲۷) رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کر کوٹھری سے باہر نکلالالہ تو منتظر ہی تھے دیکھ کر اُس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اُس پلید بدمعاش کو کہا سردار صاحب رات کیا کیفیت گذری اُس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتادیا کہ حمل ٹھہر گیا لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اُسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بہاری لال کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں وڈیا سے بھرا ہوا ہے کیا عمدہ تد بیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی مہر سنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب سب سچ ہے کیا وید کی آ گیا کبھی خطا بھی جاتی ہے۔ میں تو انہیں باتوں کے خیال سے وید کوست و دیاؤں کا پستک مانتا ہوں ۔ اور دراصل مہر سنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا اس کو کسی وید شاستر اور شر تی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ اُن کا نوٹ ۔ یہ قصہ جو ہم نے لکھا ہے فرضی نہیں مگر ہم نہیں چاہتے کہ کسی کی پردہ دری کریں اس لئے ہم نے ناموں کو کسی قدر بدلا کر لکھ دیا ہے۔ منہ