آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 550

آریہ دھرم — Page xxxviii

قاصر ہوں لہٰذا <mark>اس</mark>ے قومی ام<mark>ان</mark>ت سمجھ کر <mark>اس</mark> کو سیدنا قمر ال<mark>ان</mark>بیاء حضرت صاحبزادہ عالی مقام مرزا بشیر احمد صاحب سلّمہ ربّہ کے سپرد کرتا ہوں جو ایسے کاموں کے احق اور اہل ہیں تا کہ قائم ہونے والے قومی میوزیم میں رکھ کر <mark>اس</mark> کو آنے والی نسلوں کے ایم<mark>ان</mark> و ایق<mark>ان</mark> کی مضبوطی و زیادتی اور عرف<mark>ان</mark> میں ترقی کا ذریعہ بنا سکیں۔فقط عبد الرحمن قادی<mark>ان</mark>ی ۲۰؍ جولائی ۱۹۴۶ء (سیرت المہدی جلد دوم۔تتمہ صفحہ ۳۶۰) <mark>اس</mark> کتاب کا پہلا ایڈیشن جو جولائی ۱۹۰۵ء ؁ میں مطبع ضیاء ال<mark>اس</mark>لام پریس قادی<mark>ان</mark> میں طبع ہو کر شائع ہوا تھا۔جلسہ مذاہب کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رپورٹ (مطبوعہ ۱۸۹۷ء ؁) کے مطابق ہے۔<mark>اس</mark> لئے موجودہ ایڈیشن کا پہلے ایڈیشن سے بعض مقامات پر الفاظ کا فرق ہے جنہیں نش<mark>ان</mark> زد کر دیا گیا ہے۔<mark>اس</mark> کے علاوہ تین صفحات پر مشتمل ایک پر معارف مضمون ہے جو کمیٹی کی رپورٹ اور پہلے ایڈیشن میں کسی وجہ سے شائع ہونے سے رہ گیا تھا۔<mark>اس</mark> کے سیاق و سباق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعی <mark>اس</mark> مضمون کا حصہ ہے۔دیکھئے صفحہ۳۲۲ا،صفحہ۳۲۲ب، صفحہ۳۲۲ج اور صفحہ۳۲۲د۔ناشر سید عبد الحی ژژژ