آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 550

آریہ دھرم — Page 109

قابل توجه ناظرین اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اُسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔ عیسائی لوگ درحقیقت ہمارے اُس عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور آنحضرت کے بارہ میں پیشگوئی کی تھی بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جسکا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو بٹ مار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی سلا می بینیم کا سخت مکذب تھا اور اُس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے ۔ سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی بلکہ ایسے لوگوں کے حق میں صاف فرمادیا ہے کہ اگر کوئی انسان ہو کر خدائی کا دعوی کرے تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے جو اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کے ذکر کرنے کے وقت اُس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو نیچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے ایسا آدمی) اگر نا بینا نہ ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے اور اگر نیک اور ایماندار ہوتا ) تو خدائی کا دعوی نہ کرتا پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق ر حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اس یسوع کی نسبت لکھے گئے ؟ ہیں جسکا قرآن و حدیث میں نام ونشان نہیں۔ وَمَن يَقُل مِنْهُمْ إِلَى الهُ مِن دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ تَجْزِي الظَّلِمِينَ (الانبیاء-۳۰)