آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 550

آریہ دھرم — Page 108

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۰۸ آریہ دھرم کر چکا اور ہندو بچے ہر یک گلی کوچہ میں اسلام کے منہ پر تھوکنے لگے پس کیا اس وقت واجب نہ تھا کہ ہم بھی کچھ ویدوں کی حقیقت کھولیں اور آیہ کریمہ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْى هُمْ يَنْتَصِرُونَ پر عمل کر کے اپنے مولیٰ کو راضی کریں اور پھر اس وقت سے آج تک ہم خاموش رہے لیکن آریوں کی طرف سے اس قدر گندی کتا ہیں اور گندی اخباریں تو ہین اسلام کے بارے میں اس وقت تک شائع ہوئیں کہ اگر اُن کو جمع کریں تو ایک انبار لگتا ہے یہ کیسا خبث باطن ہے کہ مسلمان کہلا کر پھر ظلم کے طور پر ان لوگوں کو ہی حق بجانب سمجھتے ہیں جو سالہا سال سے ناحق شرارت اور افتراء کے طور پر اسلام کی توہین کر رہے ہیں ۔اے مولویت کے نام کو داغ لگانے والو!!! ذرا سوچو کہ قرآن میں کیا حکم ہے کیا یہ روا ہے کہ ہم اسلام کی تو ہین کو چپکے سنے جائیں کیا یہ ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالی جائیں اور ہم خاموش رہیں ہم نے برسوں تک خاموش رہ کر یہی دیکھا ہم دیکھ دیئے گئے اور صبر کرتے رہے مگر پھر بھی ہمارے بدگمان دشمن باز نہ آئے اگر تمہیں شک ہے اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے ہی عیسائیوں اور آریوں کو توہین مذہب کے لئے بر انگیختہ کیا ہے ورنہ یہ بے چارے نہایت سلیم المزاج اور اسلام کی نسبت خاموش تھے بے ادبی اور تو ہیں نہیں کرتے تھے اور نہ گالیاں نکالتے تھے تو آؤ ایک جلسہ کرو پھر اگر یہ ثابت ہو کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے اور ابتدا سے ہم ہی محرک ہوئے اور ہم نے ہی ان لوگوں کے بزرگوں کو ابتداء گالیاں دیں تو ہم ہر ایک سزا کے سزاوار ہیں لیکن اگر اسلام کے دشمنوں کا ہی ظلم ثابت ہو تو ایسے خبیث طبع مولویوں کو کسی قدر سزا دینا ضروری ہے جو ہماری عداوت کیلئے اسلام کو درندوں کے آگے پھینکتے ہیں ہر یک امر کی حقیقت تحقیقات کے بعد کھلتی ہے اگر بچے ہیں تو ایک جلسہ کریں پھر اگر ہم کا ذب نکلیں تو بیشک ہندوؤں اور عیسائیوں کی تائید میں ہماری کتابیں جلا دیں اور ہرگز ایسا جلسہ نہیں کریں گے کیونکہ ان لعنتی لوگوں کے اب دل مخدوم ہو گئے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ محض افترا کے طور پر بخل کے تقاضا سے ان کے منہ سے یہ باتیں نکل رہی ہیں لیکن باوا نا نک صاحب کے بارہ میں جو ہم نے رسالہ ست بچن لکھا ہے اس میں ہم نے باوا صاحب کی نسبت کوئی تو ہین کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ رسالہ اُن کی تعریف اور توصیف سے بھرا ہوا ہے اور ہم ایسے نیک منش اور قابل تعریف انسان کی مذمت کرنا سراسر محبت اور ناپاکی کا طریق جانتے ہیں اور ہماری رائے ان کی نسبت یہی ہے کہ وہ بچے دل سے خدا تعالی کی راہ میں فدا تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جن پر خدا تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں۔ والسلام على من اتبع الهدى الراقم خاکسار الشورى: ٤٠ غلام احمد