آریہ دھرم — Page 107
روحانی خزائن جلد ۱۰ 1۔6 باعث تالیف آریہ دھرم دست بیچن آریہ دھرم یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہم برسوں تک آریوں کے مقابل پر بالکل خاموش رہے قریباً چودان برس کا عرصہ ہو گیا کہ جب ہم نے پنڈت دیانند اور اندر من اور کنہیا لال کی سخت بدزبانی کو دیکھ کر اور اُنکی گندی کتابوں کو پڑھ کر کچھ ذکر ہندوؤں کے وید کا براہین احمدیہ میں کیا تھا مگر ہم نے اس کتاب میں بجزر واقعی امر کے جو ویدوں کی تعلیم سے معلوم ہوتا تھا ایک ذرا زیادتی نہ کی لیکن دیا نند نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں اور اندرمن نے اپنی کتابوں میں اور کنہیا لال نے اپنی تالیفات میں جس قدر بدزبانی اور اسلام کی توہین کی ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کو خوب معلوم ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہوں گی خاص کر دیا نند نے ستیارتھ پرکاش میں وہ گالیاں دیں اور سخت زبانی کی جن کا مرتکب صرف ایسا آدمی ہوسکتا ہے جس کو نہ خدا تعالیٰ کا خوف ہو نہ عقل ہونہ شرم ہو نہ فکر ہو نہ سوچ ہوغرض ہم نے ان سفلہ مخالفوں کے افتراؤں کے بعد صرف چند ورق براہین میں آریوں کے خیالات کے بارہ میں لکھے اور بعد ازاں ہم باوجود یکہ لیکھرام وغیرہ نے اپنی نا پاک طبیعت سے بہت سا گند ظاہر کیا اور بہت سی توہین مذہب کی بالکل خاموش رہے ہاں سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق جن کی تالیف پر نو برس گزر گئے آریوں کی ہی تحریک اور سوالات کے جواب میں لکھے گئے چنانچہ سرمہ چشم آریہ کا اصل موجب منشی مرلید ھر آریہ تھے جنہوں نے بمقام ہوشیار پور کمال اصرار سے مباحثہ کی درخواست کی اور سرمہ چشم آریہ در حقیقت اُس سوال جواب کا مجموعہ ہے جو مابین اس عاجز اور منشی مرلیدھر کے مارچ ۱۸۸۶ء میں ہوا پھر ان کتابوں کی تالیف کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چودان برس سے آج تک یا اگر ہوشیار پور کے مباحثہ سے حساب کرو تو تو برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے آریوں کی طرف سے نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخباریں انہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کارروائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلق حد سے زیادہ بڑھ گیا اور ان کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا ہمارے بعض اندھے مولوی جو ہر یک بات میں ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو بالکل معذور سمجھ کر ہر یک سخت زبانی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں انکو کیا کہیں اور انکی نسبت کیا لکھیں وہ تو بخل اور حسد کی زہر سے مر گئے اور ہمارے بغض سے اللہ اور رسول کے بھی دشمن ہو گئے ۔ اے سیہ دل لوگو اجتمہیں صریح جھوٹ بولنا اور دن کو رات کہنا کس نے سکھا یا گو یہ سچ ہے کہ ہم نے براھین میں ویدوں کا کچھ ذکر کیا مگر اُس وقت ذکر کیا کہ جب دیا نند ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ستیارتھ پرکاش میں صد با گالیاں دے چکا اور اسلام کی سخت تو ہین