آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 550

آریہ دھرم — Page 70

روحانی خزائن جلد ۱۰ آریہ دھرم دن تک تھا مگر وحی اور الہام نے اُس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ وہ پہلے سے ہی عرب میں عام طور پر رائج تھا اور جب صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرت نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح موقت ہے کوئی حرام کاری اس میں نہیں کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسی خاوند والی عورت دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے بلکہ در حقیقت بیوہ یا با کرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر کیا جاتا ہے تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نکاح نہیں۔ اجتہادی طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دیدی لیکن خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ اور صد با عرب کی بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں ایسا ہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اٹھا دیا جاوے سوخدا نے قیامت تک متعہ کو حرام کر دیا ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ہے نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اُس میں خاوند والی عورت باوجود زندہ ہونے خاوند کے دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے لیکن متعہ کی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں ہوتی بلکہ ایک باکرہ یا بیوہ ہوتی ہے جس کا ایک مقرری وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا ہے سوخو سوچ لو کہ متعہ کو نیوگ سے کیا نسبت ہے اور نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ۔ پھر ماسوا اس کے ہم یہ کہتے ہیں کہ در حقیقت یہ اسلام ہی میں خوبی ہے کہ اُس میں ایک موقت نکاح بھی حرام کر دیا گیا ہے ورنہ دوسری قوموں پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے ادنی ادنیٰ ضرورتوں کے لئے زنا کاری کو بھی جائز رکھا ہے بھلا ایک دانشمند نیوگ کے مسئلہ پر ہی غور کرے کہ صرف اولاد کے لالچ کی وجہ سے اپنی پاکدامن عورت کو نا محرم کے بستر پر لٹا دیا جاتا ہے حالانکہ نہ اُس عورت کو طلاق دی گئی نہ خاوند کے تعلقات اُس سے ٹوٹے ہیں بلکہ وہ خاوند کی سچی خیر خواہ بن کر اس کے لئے اولاد پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا ہی ور عیسائیوں میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو ایک نوجوان عورت کو دوسرے نو جوان اجنبی مرد سے ہم بغل ہونے سے روکے اور مرد کو اس عورت کا بوسہ لینے سے منع کرے بلکہ یورپ میں یہ تمام مکر وہ باتیں نہایت بے تکلفی سے رائج ہیں اور پردہ پوشی کے لئے ان کاموں کا نام پاک محبت رکھا جاتا ہے سو یہ ناقص تعلیم کے بدنتائج ہیں ۔ اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی ایسے