آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 550

آریہ دھرم — Page 66

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۶۶ آریہ دھرم ہے کہ مرد اور عورت ایک ہو جائیں اُسی نے مفاسد ظاہر ہونے کے وقت اجازت دی ہے کہ اگر آرام اُس میں متصور ہو کہ کرم خوردہ دانت یا سڑے ہوئے عضو یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح موذی کو علیحدہ کر دیا جائے تو اسی طرح کار بند ہو کر اپنے تئیں فوق الطاقت آفت سے بچالیں کیونکہ جس جوڑ سے وہ فوائد مترتب نہیں ہو سکتے کہ جو اُس جوڑ کی علت غائی ہیں بلکہ اُن کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ در حقیقت جوڑ نہیں ہے۔ اور بعض آر یہ عذر معقول سے عاجز آ کر یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حلالہ کی رسم نیوگ سے مشابہ ہے یعنی جو مسلمان اپنی جور و کو طلاق دے وہ اپنی جو رو کو اپنے پر حلال کرنے کے لئے دوسرے سے ایک رات ہم بستر کراتا ہے تب آپ اُس کو اپنے نکاح میں لے آتا ہے سو ہم اس افترا کا جواب بجز لعنة اللہ علی الکاذبین اور کیا دے سکتے ہیں۔ ناظرین پر واضح رہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس نا پاک رسم کو قطعاً حرام کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔ اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہوگا کہ جب واقعی طور پر اُس کو اپنی جو رو بنا لے اور اگر دل میں یہ خیال ہو کہ وہ اس حیلہ کے لئے اُس کو جو رو بناتا ہے کہ تا اُس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جائے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اُس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب دے وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔ غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور ائمہ اور علماء سلف جیسے حضرت قتادہ۔ عطا اور امام حسن اور ابراہیم تھی اور حسن بصری اور مجاہد اور شعبی اور سعید بن مسیب اور امام مالک - لیست - ثوری۔ امام احمد بن حنبل وغیرہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور ب محققین علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں اور شریعت اسلام اور نیز لغت عرب میں بھی زوج اُس کو کہتے ہیں کہ کسی عورت کو فی الحقیقت اپنی جو رو بنانے کے لئے تمام حقوق کو مد نظر رکھ کر اپنے نکاح میں لاوے اور نکاح کا معاہدہ حقیقی اور واقعی ہو نہ کہ کسی دوسرے کے لئے ایک حیلہ ہو اور قرآن شریف میں جو آیا ہے حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيرہے اس کے یہی معنے ہیں کہ جیسے دنیا میں البقرة : ٢٣١