آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 550

آریہ دھرم — Page 59

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۵۹ آریہ دھرم دل تو ایک ہی رہے گا اسی طرح جس کو تم ماں کہہ بیٹھے وہ تمہاری ماں نہیں بن سکتی اور اسی طرح خدا نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقت میں تمہارے بیٹے نہیں کر دیا یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور خدا سچ کہتا ہے اور سیدھی راہ دکھلاتا ہے تم اپنے منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کے نام سے پکارو۔ یہ تو قرآنی تعلیم ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اپنے پاک نبی کا نمونہ اس میں قائم کر کے پورانی رسم کی کراہت کو دلوں سے دور کر دے سو یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے قائم کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام آزاد کردہ کی بیوی کی اپنے خاوند سے سخت نا سازش ہو گئی آخر طلاق تک نوبت پہنچی پھر جب خاوند کی طرف سے طلاق مل گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیوند نکاح کر دیا اور خدا تعالیٰ کے نکاح پڑھنے کے یہ معنی نہیں کہ زینب اور آنحضرت صلی اللہ کا ایجاب قبول نہ ہوا اور جبرا خلاف مرضی زینب کے اُس کو گھر میں آباد کر لیا یہ تو اُن لوگوں کی بدذاتی اور ناحق کا افترا ہے جو خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے بھلا اگر وہ بچے ہیں تو اس افترا کا حدیث صحیح یا قرآن سے ثبوت تو دیں۔ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں نکاح پڑھنے والے کو یہ منصب نہیں ہوتا کہ جیرا نکاح کر دے بلکہ نکاح پڑھنے سے پہلے فریقین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اب خلاصہ یہ کہ صرف منہ کی بات سے نہ تو بیٹا بن سکتا ہے نہ ماں بن سکتی ہے مثلاً ہم آریوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر اُن میں سے کوئی شخص غصہ میں آکر یا کسی دھوکہ سے اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے تو کیا اس کی عورت اُس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق پڑ جائے گی اور خود یہ خیال بہداہت باطل ہے کیونکہ طلاق تو (۵۳) آریوں کے مذہب میں کسی طور سے پڑہی نہیں سکتی خواہ اپنی بیوی کو نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ ماں کہہ دیں یا دادی کہہ دیں۔ تو پھر جبکہ صرف منہ کے کہنے سے کوئی عورت ماں یا دادی نہیں بن سکتی تو پھر صرف منہ کی بات سے کوئی غیر کا نطفہ بیٹا کیونکر بن سکتا ہے اور کیونکر قبول بنی کیا جاتا ہے کہ در حقیقت بیٹا ہو گیا اور اس کی عورت اپنے پر حرام ہو گئی خدا کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا پس بلا شبہ یہ بات صحیح ہے کہ اگر صرف منہ کی بات سے ایک آریہ کی عورت اُس کی ماں نہیں بن سکتی تو اسی طرح صرف منہ کی بات سے غیر کا بیٹا بیٹا