اَربعین — Page 481
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۸۱ اربعین نمبر ۴ ☆ سے باز نہیں آتھے اور ہفتہ میں کوئی نہ کوئی ایسا اشتہار پہنچ جاتا ہے جس میں پیر مہر علی شاہ کو آسمان پر چڑھایا ہوا ہوتا ہے اور میری نسبت گالیوں سے کا غذ بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ اور عوام کو دھو کہ پر دھوکہ دے رہے ہیں ۔ اور میری نسبت منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کی جھوٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے۔ بات تو تب ہے کہ کوئی انسان حیا اور انصاف کی پابندی کر کے کوئی امر ثابت بھی کرے۔ ظاہر ہے کہ اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں تو اب چار جز عربی تفسیر سورۃ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت نستر دن میں اپنے گھر میں ہی بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنا اُن کے لئے کیا مشکل بات ہے۔ اُن کی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب تو اُن پر زور دیں ۔ ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہوا ثبوت ہماری طرف سے ہو گا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کے لئے کوشش کی ۔ پانسو رو پید انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور ان کے حامیوں نے اس طرف رخ نہ کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی گشتی دو پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے ۔ تو دوسری مرتبہ کشتی کرائی جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق تو اس دوبارہ کشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوں کا شبہ دور ہو جائے اور دوسرا شخص جیتا ہے اور میدان میں اس کے مقابل پر کھڑا نہیں ہوتا اور بیہودہ عذر پیش کرتا ہے ناظرین برائے خداذ را سو چو کہ کیا یہ عذر بد نیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو پھر اپنے تین دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لو اور اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں میں کبھی نہیں کروں گا پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ یہ پیر صاحب کا جواب ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرط دعوت منظور کر لی تھی ۔ منہ