اَربعین — Page 460
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۶۰ اربعین نمبر۴ بر پا ہوتا تھا اور غیرممکن سمجھا گیا تھا کہ کوئی شخص حلاوتِ اسلام چکھ کر پھر مرتد ہو جائے ۔ اور اب اسی ملک برٹش انڈیا میں ہزار ہا مرتد پاؤ گے بلکہ ایسے بھی جنہوں نے اسلام کی تو ہین اور رسول کریم کی سب وشتم میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ پھر آج کل علاوہ اس کے یہ آفت بر پا ہو گئی ہے کہ جب عین صدی کے سر پر خدا تعالیٰ نے تجدید اور اس حدیث کو تمام اکابر اہل سنت مانتے چلے آئے ہیں کہ ہر یک صدی کے سر پر مجد د پیدا ہو گا مگر مجد دین کے نام جو پیش کرتے ہیں یہ تصریح اور تعیین وحی کے رو سے نہیں صرف اجتہادی خیال ہے ۔ اور وہ نشان جو خدا نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے وہ سو سے بھی زیادہ ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج کئے گئے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے مخالف اُن پہلے منکروں کی طرح بن گئے ہیں جو بار بار حدیبیہ کے متعلق کی پیشگوئی کو پیش کرتے تھے یا ان یہود کی طرح جو حضرت مسیح کی تکذیب کے لئے اب تک یہ ان کی پیشگوئیاں پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں داؤد کا تخت قائم کروں گا اور نیز یہ پیشگوئی کی تھی کہ ابھی بعض لوگ زندہ ہوں گے جو میں واپس آؤں گا۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اُن تمام پیشگوئیوں پر نظر نہیں ڈالتے جو ایک متوا سے بھی زیادہ پوری ہو چکی ہیں اور ملک میں شائع ہو چکیں ۔ اور جو ایک دو پیشگوئی باعث ان کی عبادت اور کمی توجہ کے ان کو سمجھ نہیں آئیں بار بار انہیں کا راگ گاتے رہتے ہیں ۔ نہیں سوچتے کہ اگر اس طور پر تکذیب جائز ہے تو اس صورت میں یہ اعتراض تمام نبیوں پر ہوگا اور ان کی پیشگوئیوں پر ایمان لانے کی راہ بند ہو جائے گی ۔ مثلاً جو شخص آتھم کی پیشگوئی یا احمد بیگ کے داماد کی پیشگوئی پر اعتراض کرتا ہے کیا وہ حدیبیہ کے متعلق کی پیشگوئی کو بھول گیا ہے جس پر یقین کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کثیر کے ساتھ مکہ معظمہ کا سفراختیار فرمایا تھا۔ اور کیا یونس نبی کی پیشگوئی چالیس دن والی یاد نہیں رہی ۔ افسوس کہ میری تکذیب کی وجہ سے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی پیشگوئی کی بھی خوب عزت کی کہ قادیاں پر نور نازل ہوا اور وہ نور مرزا غلام احمد ہے جس سے میری اولا د محروم رہ گئی ( اولاد میں مرید بھی داخل ہیں ) اور پھر جس حالت میں موت کی پیشگوئیاں صرف ایک نہیں چار پیشگوئیاں ہیں (۱) آتھم کی نسبت (۲) لیکھرام کی نسبت (۳) احمد بیگ کی نسبت (۴) احمد بیگ