اَربعین — Page 453
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۵۳ اربعین نمبر ۴ دلیل نہیں ہے کہ ان لوگوں کے دل مسخ ہو گئے ہیں ۔ نہ خدا کا ڈر ہے نہ روز حساب کا کچھ خوف ہے ۔ ان لوگوں کے دل جرات اور شوخی اور گستاخی سے بھر گئے ہیں ۔ گویا مرنا نہیں ہے ۔ اگر ایمان اور حیا سے کام لیتے تو اُس کا رروائی پر نفرین کرتے ویل یعنی جہنم کا وعدہ ہے۔ افسوس کہ منشی صاحب نے ان بیہودہ نکتہ چینیوں کے پہلے اس آیت پر غور (۲۲) نہیں کی مگر اچھا ہوا کہ انہوں نے باقرار ان کے اس بد گوئی کا خدا تعالیٰ سے دست بدست جواب بھی پالیا یعنی بارہا ان کو وہ الہام ہوا جو کتاب عصائے موسیٰ میں درج ہے یعنی انی مهین لمن اراد اهانتک ۔ یعنی میں تجھے اس شخص کی حمایت میں ذلیل کروں گا جس کی نسبت تیرا خیال ہے جو وہ مجھے ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ یعنی یہ عاجز ۔ اب دیکھو کہ یہ کیسا چمکتا ہوا نشان ہے جس نے آیت وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ کی بلا توقف تصدیق کر دی ۔ دنیا کے تمام مولویوں سے پوچھ لو کہ اس الہام کے یہی معنے ہیں اور لفظ مھین قائم مقام مھینک کا ہے۔ اور یہ ایک بڑا نشان ہے۔ اگر منشی الہی بخش صاحب خدا سے ڈریں۔ اہانت کیلئے منشی صاحب کو دو ہی راہ سوجھی ہیں (۱) ایک یہ کہ جس قدر کتابوں کا وعدہ کیا تھاوہ سب شائع نہیں کیں۔ یہ خیال نہ کیا کہ اگر کچھ دیر ہوگئی تو قرآن شریف بھی تو ۲۳ برس میں ختم ہوا۔ آپ کو بد نیتی پر کیونکر علم ہو گیا۔ انسان خدا کی قضاء وقدر کے نیچے ہے وانما الاعمال بالنيات ۔ جبکہ یہ بھی بار بار اشتہار دیا گیا کہ جس شتاب کار نے کچھ دیا ہے وہ واپس لے لے تو پھر اعتراض کی کیا گنجائش تھی بجو محبت نفس ۔ (۲) دوسرا یہ اعتراض ہے کہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ اس کا جواب تو یہی ہے کہ لعنۃ اللہ علی الکذبین - ستوا سے زیادہ پیشگوئی پوری ہو چکی۔ ہزاروں انسان گواہ ہیں۔ اور آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اپنی شرط کے موافق پوری ہوئی۔ بھلا فر مائیے کیا وہ الہام شرطی نہیں تھا۔ سچ سے انکار کرنا لعنتیوں کا کام ہے۔ اگر اجتہاد سے ہمارا یہ بھی خیال ہو کہ آتھم میعاد کے اندر مرے گا تو یہ اعتراض صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے الهمزة: ٢