اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 615

اَربعین — Page 441

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۴۱ اربعین نمبر ۴ اُس کے پنجہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی قسم کھا کر یہ کہے کہ فلاں مامور من اللہ جھوٹا ہے اور خدا پر افترا کرتا ہے اور دجال ہے اور بے ایمان ہے حالانکہ دراصل وہ شخص خدا کی طرف سے اور صادق ہوا اور یہ شخص جو اس کا مکذب ہے مدار فیصلہ یہ ٹھہرائے کہ جناب الہی میں دعا کرے کہ اگر یہ صادق ہے تو میں پہلے مروں اور اگر کا ذب ہے تو میری زندگی میں یہ شخص مر جائے تو خدا تعالی ضرور اس شخص کو ہلاک کرتا ہے جو اس قسم کا فیصلہ چاہتا ہے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ مقام بدر میں ابو جہل نے بھی یہی دُعا کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اسی میدانِ جنگ میں اُس کو قتل کرے۔ سو اس دُعا کے بعد وہ آپ ہی مارا گیا۔ یہی دُعا مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے اور مولوی غلام دستگیر قصوری نے میری مقابل پر کی تھی جس کے ہزاروں انسان گواہ ہیں۔ پھر بعد اس کے وہ دونوں مولوی ☆ صاحبان فوت ہو گئے ۔ نذیر حسین دہلوی جو محدث کہلاتا ہے میں نے بہت زور دیا تھا کہ وہ اسی (۱۲) دُعا کے ساتھ فیصلہ کرے لیکن وہ ڈر گیا اور بھاگ گیا۔ اس روز دہلی کی شاہی مسجد میں سات ہزار کے قریب لوگ جمع ہوں گے جبکہ اس نے انکار کیا۔ اسی وجہ سے ابتک زندہ رہا۔ اب ہم اس رسالہ کو ختم کرتے ہیں اور حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے ہم جنسوں سے جواب کے منتظر ہیں حمد اس بات کو قریبا نو برس کا عرصہ گزر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی ۔ جب ان کے ہر ایک پہلو سے گریز دیکھ کر اور ان کی بد زبانی اور دشنام دہی کو مشاہدہ کر کے آخری فیصلہ یہی ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ اپنے اعتقاد کے حق ہونے کی قسم کھالے پھر اگر فتم کے بعد ایک سال تک میری زندگی میں فوت نہ ہوا تو میں تمام کتابیں اپنی جلا دوں گا اور اس کو نعوذ باللہ حق پر سمجھ لوں گا لیکن وہ بھاگ گیا اسی بھاگنے کی برکت سے اب تک اس کو عمر دی گئی ۔ منہ