اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 615

اَربعین — Page 438

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۳۸ اربعین نمبر ۴ کے مخالف دوسرے خیالات پر چلانا چاہے جو کسی اور کے خیالات ہیں نہ خدا کے تب خدا اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ خدا کی منشاء کے مخالف وہ تعلیم دیتا ہے۔ اور پھر توریت میں یہ عبارت ہے : ۔ لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جاوے۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا کہ افترا کی سزا خدا کے نزدیک قتل ہے اور پہلی آیتوں میں ذکر ہو چکا ہے کہ خدا خودا سے قتل کرے گا۔ اور ہرگز نہیں بچے گا۔ دیکھو تو ریت استثنا باب ۱۸ آیت ۲۰ ۔ اور پھر حز قیل نبی کی کتاب میں جھوٹے نبیوں کی نسبت یہ عبارت ہے :خداوند یہوواہ یوں کہتا ہے کہ بیہودہ نبیوں پر واویلا ہے جو اپنی روح کی پیروی کرتے ہیں ۔ اور انہوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ وہ دھوکا دے کر کہتے ہیں کہ خداوند کہتا ہے اگر چہ خداوند نے انہیں نہیں بھیجا۔ (۷) بولتے ہو (اے جھوٹے نبیو!) کہ خداوند نے کہا اگر چہ میں نے نہیں کہا۔ اس لئے خداوند یہوواہ یوں کہتا ہے کہ تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اور خداوند یہوواہ کہتا ہے کہ میں تمہارا مخالف ہوں اور میرا ہاتھ اُن نبیوں پر چلے گا جو دھوکا دیتے ہیں ( یعنی جن کو صفائی سے کوئی کشف نہیں ہوتا اور اپنی طرف سے یقین کر بیٹھے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہے حالانکہ وہ خدا کا کلام نہیں ) اور جانتے ہیں کہ یقین کے اسباب میسر نہیں مگر پھر بھی جھوٹی غیب دانی کرتے ہیں وہ ہلاک کئے جائیں گے کیونکہ گستاخی کرتے ہیں ۔ سومیں اے جھوٹے نبیو! اُس دیوار کو جس پر تم نے کچی کہگل کی ہے توڑ ڈالوں گا اور زمین پر گراؤں گا۔ یہاں تک کہ اس کی نیو ظاہر ہو جائے گی۔ ہاں وہ گرے گی اور تم اس کے بیچ میں ہلاک ہوؤ گے۔ دیکھو ہ قیل ۱۳ باب آیت ۳ سے ۱۴ آیت تک ۔ اور پھر یسعیا نبی کی کتاب میں اسی کی تائید ہے اور اس کی عبارت یہ ہے: