اَربعین — Page 436
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۳۶ اربعین نمبر ۴ يــغــضــوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذالک از کی لھم ۔ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى - صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسى - یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نبی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کو تہ اندیشیاں ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تا ہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو ۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ زنا نہ کرو۔ خون نہ کرو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو سیح موعود کا بھی کام ہے۔ پھر وہ دلیل تمہاری کیسی گا ؤ خورد ہو گئی کہ اگر کوئی شریعت لاوے اور مفتری ہو تو وہ تئیس برس تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ یا د رکھنا چاہئے کہ یہ تمام باتیں بیہودہ اور قابل شرم ہیں۔ جس رات میں نے اپنے اس دوست کو یہ باتیں سمجھا ئیں تو اسی رات مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ حالت ہو کر جو وحی اللہ کے وقت میرے پر وارد ہوتی ہے وہ نظاره گفتگو کا دوبارہ دکھلایا گیا ۔ اور پھر الہام ہوا قل ان هدى الله هو الهدى يعنى خدا نے جو مجھے اس آیت لو تقول علینا کے متعلق سمجھایا ہے وہی معنے صحیح ہیں ۔ تب اس الہام کے بعد میں نے چاہا کہ پہلی کتابوں میں سے بھی اس کی کچھ نظیر تلاش کروں ۔ سو معلوم ہوا کہ تمام بائبل ان نظیروں سے بھری پڑی ہے کہ جھوٹے نبی ہلاک کئے جاتے ہیں۔ سوئیں الاعلى : ۲۰،۱۹ ۲۳