اَربعین — Page 431
روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۳۱ اربعین نمبر ۴ وہ یہ اعتراض پیش کرے کہ جبکہ اس دروغگو نے جس کا دروغگو ہونا تم تسلیم کرتے ہو تیس برس ستک یا اس سے زیادہ عرصہ تک زندگی پالی اور ہلاک نہ ہوا تو ہم کیونکر سمجھیں کہ ایسے کا ذب کی مانند تمہارا نبی نہیں تھا۔ ایک کا ذب کو تئیس برس تک مہلت مل جانا صاف اس بات پر دلیل ہے کہ ہر ایک کا ذب کو ایسی مہلت مل سکتی ہے۔ پھر لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کا صدق لوگوں پر کیوں کر ظاہر ہوگا ؟ اور اس بات پر یقین کرنے کے لئے کون سے دلائل پیدا ہوں گے کہ اگر (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افترا کرتے تو ضرور تئیس برس کے اندر اندر ہلاک کئے جاتے ۔ لیکن اگر دوسرے لوگ افترا کریں تو وہ تیس برس سے زیادہ مدت تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور خدا ان کو ہلاک نہیں کرتا۔ یہ تو وہی مثال ہے۔ مثلاً ایک دوکاندار کہے کہ اگر میں اپنے دوکان کے کاروبار میں کچھ خیانت کروں یار ڈی چیزیں دوں یا جھوٹ بولوں یا کم وزن کروں تو اُسی وقت میرے پر بجلی پڑے گی اس لئے تم لوگ میرے بارے میں بالکل مطمئن رہو اور کچھ شک نہ کرو کہ کبھی میں کوئی رڈی چیز دوں گا یا کم وزنی کروں گا یا جھوٹ بولوں گا بلکہ آنکھ بند کر کے میری دوکان سے سودا لیا کرو اور کچھ تفتیش نہ کرو تو کیا اس بیہودہ قول سے لوگ تسلی پا جائیں گے۔ اور اس کے اس لغو قول کو اس کی راستبازی پر ایک دلیل سمجھ لیں گے؟ ہر گز نہیں ۔ معاذ اللہ ایسا قول اس شخص کی راستبازی کی ہرگز دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ ایک رنگ میں خلق خدا کو دھوکا دینا اور ان کو غافل کرنا ہے۔ ہاں دو صورت میں یہ دلیل ٹھہر سکتی ہے۔ (۱) ایک یہ کہ چند دفعہ لوگوں کے سامنے یہ اتفاق ہو چکا ہو کہ اس شخص نے اپنی فروتنی اشیاء کے متعلق کچھ جھوٹ بولا ہو یا کم وزن کیا ہو یا کسی اور قسم کی خیانت کی ہوتو اسی وقت اُس پر بجلی پڑی ہو۔ اور نیم مردہ کر دیا۔ ہو۔ اور یہ واقعہ جھوٹ بولنے یا خیانت یا کم وزنی کرنے کا بار بار پیش آیا ہو اور بار بار بجلی پڑی ہو الحاقة : ۴۵