اَربعین — Page 424
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۲۴ اربعین نمبر ۳ و رسلی۔ واني مع الافواج اتيك بغتة۔ وانى اموج موج البحر۔ ان فضل الله لأت۔ وليس لاحد ان يرد ما اتى۔ قل اى وربي انه لحق لا يَتَبَدَّلُ ولا يخفى۔ وينزل ما تعجب منه وحى من ربّ السموات العلى۔ لا اله الا هو يعلم كل شئ ويرى ان الله مع الذين اتقوا والذين هم يحسنون الحُسْنى۔ تُفتح لهم ابواب السماء ولهـم بشرى في الحيوة الدنيا ۔ انت تربى في حجر النبي وانت تسكن قنن الجبال واني معك في كل حال ۔ ترجمہ: - ہم نے احمد کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ تب لوگوں نے کہا کہ یہ کذاب ہے۔ اور انہوں نے اس پر گواہیاں دیں اور سیلاب کی طرح اس پر گرے۔ اس نے کہا کہ میرا دوست قریب ہے مگر پوشیدہ ۔ تجھے میری مدد آئے گی میں رحمان ہوں ۔ تو قابلیت رکھتا ہے اس لئے تو ایک بزرگ بارش کو پائے گا۔ میں ہر ایک قوم میں سے گروہ کے گروہ تیری طرف بھیجوں گا۔ میں نے تیرے مکان کو روشن کیا۔ یہ اس خدا کا کلام ہے جو عزیز اور رحیم ہے اور اگر کوئی کہے کہ کیونکر ہم جانیں کہ یہ خدا کا کلام ہے تو ان کے لئے یہ علامت ہے کہ یہ کلام نشانوں کے ساتھ اُترا ہے اور خدا ہرگز کافروں کو یہ موقع نہیں دے گا کہ مومنوں پر کوئی واقعی اعتراض کرسکیں۔ تو علم کا شہر ہے طیب اور خدا کا مقبول ۔ جد بعض نادان کہتے ہیں کہ عربی میں کیوں الہام ہوتا ہے اس کا یہی جواب ہے کہ شاخ اپنی جڑ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی جس حالت میں یہ عاجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنار عاطفت میں پرورش پاتا ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کا یہ الہام بھی اس پر گواہ ہے کہ تبارک الذی من علم و تعلم یعنی بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے اس کو فیض روحانی سے مستفیض کیا یعنی سید نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرا بہت برکت والا یہ انسان ہے جس نے اس سے تعلیم پائی تو پھر جب معلم اپنی زبان عربی رکھتا ہے ایسا ہی تعلیم پانے والے کا الہام بھی عربی میں چاہیے تا مناسبت ضائع نہ ہو۔ منہ براہین احمدیہ میں الہام کے یہ الفاظ ہیں فتبارك من علم و تعلم (ناشر)