اَربعین — Page 406
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۰۶ اربعین نمبر ۳ جانتے ہیں کہ خدا کی دلیل پیش کردہ سے استخفاف کرنا بالا تفاق کفر ہے کیونکہ اس دلیل پر ٹھٹھا مارنا جو خدا نے قرآن اور رسول کی حقیت پر پیش کی ہے مستلزم تکذیب کتاب اللہ و رسول اللہ ہے اور وہ صریح کفر ہے۔ مگر ان لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے شائد ان لوگوں کے نزد یک خدا تعالیٰ پر افترا کرنا جائز ہے اور ایک بدظن کہہ سکتا ہے کہ شائد یہ تمام اصرار حافظ ۲۳ محمد یوسف صاحب کا اور ان کا ہر مجلس میں بار بار یہ کہنا کہ ایک انسان تئیس برس تک ☆ خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ہلاک نہیں ہوتا اس کا یہی باعث ہو کہ انہوں نے نعوذ باللہ چند افترا خدا تعالیٰ پر کئے ہوں اور کہا ہو کہ مجھے یہ خواب آئی یا مجھے یہ الہام ہوا اور پھر اب تک ہلاک نہ ہوئے تو دل میں یہ سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا اپنے رسول کریم کی نسبت یہ فرمانا کہ اگر وہ ہم پر افترا کرتا تو ہم اُس کی رگِ جان کاٹ دیتے یہ بھی صحیح نہیں ہے ۔ اور خیال کیا کہ ہماری رگ جان خدا نے کیوں نہ کاٹ دی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت رسولوں اور نبیوں اور مامورین کی نسبت ہے جو کروڑہا انسانوں کو اپنی طرف دعوت کرتے ہیں اور جن کے افترا سے دنیا تباہ ہوتی ہے۔ لیکن ایک ایسا شخص جو اپنے تئیں مامور من اللہ ہونے کا دعوی کر کے قوم کا ۲۰ مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتلانے کے لئے دعوی کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اُس کو یہ عزت دے حملہ ہمیں حافظ صاحب کی ذات پر ہر گز یہ امید نہیں کہ نعوذ باللہ بھی انہوں نے خدا پر افترا کیا ہو اور پھر کوئی سزا نہ پانے کی وجہ سے یہ عقیدہ ہو گیا ہو ۔ ہمارا ایمان ہے کہ خدا پر افترا کرنا پلید طبع لوگوں کا کام ہے اور آخر وہ ہلاک کئے جاتے ہیں۔ منہ