اَربعین — Page 397
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۹۷ اربعین نمبر ۳ اٹھاتے اور خدا سے ڈرتے اور تو بہ کرتے ۔ ہاں ان لوگوں کی ان چند نمونوں کے بعد کمریں ٹوٹ گئیں اور اس قسم کی تحریروں سے ڈر گئے فلـن يـكتبوا بمثل هذا بما تقدمت الامثال ۔ یہ معجزہ کچھ تھوڑا نہیں تھا کہ جن لوگوں نے مدار فیصلہ جھوٹے کی موت رکھی تھی وہ میرے مرنے سے پہلے قبروں میں جاسوئے ۔ اور میں نے ڈپٹی آٹھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمی کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔ مجھے ان لوگوں کی حالتوں پر رحم آتا ہے کہ بخل کی وجہ سے کہاں تک ان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی۔ اگر کوئی نشان بھی طلب کریں تو کہتے ہیں کہ یہ دعا کرو کہ ہم سات دن میں مرجائیں۔ نہیں جانتے کہ خود تراشیدہ میعادوں کی خدا پیروی نہیں کرتا اُس نے فرما دیا ہے کہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم اور اُس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَانی انِي فَاعِلُ ذلِكَ عَمدًا ۔ سو جبکہ سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کی میعاد اپنی طرف سے پیش نہیں کر سکتے تو میں سات دن کا کیونکر دعویٰ کروں۔ ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر اچھا رہا کہ اُس نے اپنے رسالہ میں کوئی میعاد نہیں لگائی۔ یہی دعا کی کہ یا الہی اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوے میں حق پر نہیں تو اُسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد اس کے بہت جلد خدا نے اس کو موت دے دی۔ دیکھو کیسا صفائی سے فیصلہ ہو گیا۔ اگر کسی کو اس فیصلہ کے ماننے میں تر ڈر ہو تو اس کو اختیار ہے کہ آپ خدا کے فیصلہ کو آزمائے لیکن ایسی شرارتیں چھوڑ دے جو آیت لَا تَقُولَنَّ لِشَان (۱۲) إِنِّي فَاعِل ذَلِكَ غَدًا س سے مخالف پڑی ہیں شرارت کی حجت بازی سے صریح بے ایمانی کی بو آتی ہے۔ ایسا ہی مولوی محمد اسمعیل نے صفائی سے خدا تعالیٰ کے رو برو یہ درخواست کی بنی اسرائیل : ۳۷ ٣،٢ الكهف : ۲۴