اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 615

اَربعین — Page 395

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۹۵ اربعین نمبر ۳ ایک عظیم الشان معجزہ نہیں ہے کہ محی الدین لکھو کے والے نے میری نسبت موت کا الہام شائع کیا وہ مر گیا۔ مولوی اسمعیل نے شائع کیا وہ مر گیا۔ مولوی غلام دستگیر نے ایک کتاب تالیف کر کے اپنے مرنے سے میرا پہلے مرنا بڑے زور وشور سے شائع کیا وہ مر گیا ۔ پادری حمید اللہ پشاوری نے میری موت کی نسبت دس مہینہ کی میعاد رکھ کر پیشگوئی شائع کی وہ مر گیا۔ لیکھرام نے میری موت کی نسبت تین سال کی میعاد کی پیشگوئی کی وہ مر گیا۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا ۱۰ خدا تعالی ہر طرح سے اپنے نشانوں کو مکمل کرے۔ میری نسبت جو کچھ ہمدردی قوم نے کی ہے وہ ظاہر ہے اور غیر قوموں کا بغض ایک طبعی امر ہے ۔ ان لوگوں نے کونسا پہلو میرے تباہ کرنے کا اٹھا رکھا ۔ کونسا ایڈا کا منصوبہ ہے جو انتہا تک نہیں پہنچایا۔ کیا بد دعاؤں میں کچھ کسر رہی یا قتل کے فتوے نامکمل رہے یا ایذا اور توہین کے منصوبے کما حقہ ظہور میں نہ آئے؟ پھر وہ کونسا ہاتھ ہے جو مجھے بچاتا ہے۔ اگر میں کا ذب ہوتا تو چاہئے تو یہ تھا کہ خدا خود میرے ہلاک کرنے کے لئے اسباب پیدا کرتا نہ یہ کہ وقتاً فوقتاً لوگ اسباب پیدا کریں اور خدا ان اسباب کو معدوم کرتا رہے ۔ کیا یہی کا ذب کی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ قرآن بھی اُسی کی گواہی دے دیکھو مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی نے میرے نابود کرنے کے لئے کیا کچھ ہاتھ پیر مارے اور محض فضول گوئی سے خدا سے لڑا اور دعویٰ کیا کہ میں نے ہی اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا مگر وہ خود جانتا ہے کہ اس فضول گوئی کا انجام کیا ہوا ؟ افسوس کہ اُس نے اپنے اس کلمہ میں ایک صریح جھوٹ تو زمانہ ماضی کی نسبت بولا اور ایک آئندہ کی نسبت جھوٹی پیشگوئی کی۔ وہ کون تھا اور کیا چیز تھا جو مجھے اونچا کرتا۔ یہ خدا کا میرے پر احسان ہے اور اس کے بعد کسی کا بھی احسان نہیں ۔ اوّل اُس نے مجھے ایک بڑے شریف خاندان میں پیدا کیا اور حسب نسب کے ہر ایک داغ سے بچایا پھر بعد میں میری حمایت میں آپ