اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 615

اَربعین — Page 392

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۹۲ اربعین نمبر ۳ مدعی رسالت کو تمہیں برس تک مہلت دی اور لو تقول علینا کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی با وجود کا ذب ہونے کے مہلت دے دی ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کا ذب ہونا محال ہے۔ پس جو ستلزم محال ہو وہ بھی محال ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے جبکہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعوی کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیونکہ اس طرح پر اس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اٹھ جاتی ہے۔ غرض جب میرے دعوے کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی تو حافظ صاحب نے اس دلیل سے سخت انکار کر کے اس بات پر زور دیا۔ کہ کاذب کا تیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہنا جائز ہے اور کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے کا ذبوں کی میں نظیر پیش کروں گا جو رسالت کا جھوٹا دعویٰ کر کے تیس برس تک یا اس سے زیادہ رہے ہوں مگر اب تک کوئی نظیر پیش نہیں کی اور جن لوگوں کو اسلام کی کتابوں پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ آج تک علماء امت میں سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تیس برس تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ تو صریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ اور کمال بے ادبی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیش کردہ دلیل سے استخفاف ہے۔ ہاں ان کا یہ حق تھا کہ مجھ سے اس کا ثبوت مانگتے کہ میرے دعوئی مامور من اللہ ہونے کی مدت تیس برس یا اس سے زیادہ اب تک ہو چکی ہے یا نہیں مگر حافظ صاحب نے مجھ سے یہ ثبوت نہیں مانگا کیونکہ حافظ صاحب بلکہ تمام علماء اسلام اور ہندو اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعوی ہے اور جس میں بہت سے مکالمات البہیہ درج ہیں اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گزر چکے