اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 615

اَربعین — Page 371

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۷۱ اربعین نمبر ۲ کی درگاہ میں جواب دینا نہیں پڑے گا ؟ گو کیسے ہی دل سخت ہو گئے ہیں آخر اس قدر تو خوف چاہیے تھا کہ جو شخص صدی کے سر پر پیدا ہوا اور رمضان کے کسوف خسوف نے اس کی گواہی دی اور اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی نے اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا ایسے شخص کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے ۔ آخر ایک دن مرنا ہے اور سب کچھ اسی جگہ چھوڑ جانا ہے دیکھو اگر میں خدا کی طرف سے ہوا اور تم نے میری تکذیب کی اور مجھے کا فرقرار دیا اور دجال نام رکھا تو جناب الہی کو کیا جواب دو گے؟ کیا انہی کی مانند جواب ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرنے کے وقت اپنی کتابوں میں لکھے ہیں کہ توریت کے تمام نشان قرار دادہ پورے نہیں ہوئے اور کچھ رہ گئے ہیں۔ سو مدت ہوئی کہ خدا تعالیٰ اُن کو جواب دے چکا کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے وہ سب کچھ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ تمام معنے صیح ہیں جو تم کر رہے ہو۔ جو شخص حکم کر کے بھیجا گیا ہے اس کی بات کو سنو ۔ سو یہی جواب خدا تعالی کی طرف سے (۲۳) اب ہے چاہو تو قبول کرو ۔ آہ آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے قصے سے عبرت پکڑتے ۔ ان لوگوں کی حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہی حجت تھی کہ ہم نہیں مانیں گے جب تک تمام علامتیں پوری نہ ہو لیں اور بوجہ زمانہ دراز اور انواع تغیرات کے یہ غیر ممکن تھا اس لئے وہ کفر پر مرے۔ سو تم اُسی طرح ٹھو کر مت کھاؤ جو یہودی اور نصرانی کھا چکے اگر تمہارا ذخیرہ سب کا سب صحیح ہوتا تو پھر حكم مجدد کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہر ایک فرقہ کو یہی خیال ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہی صحیح ہے۔ اب یہ تمام فرقے تو بیچ پر نہیں اس لئے بیچ وہی ہے جو حکم کے منہ سے نکلے ۔ اگر ایمان ہو تو خدا کے مقرر کردہ حکم کے حکم سے بعض حدیثوں کا چھوڑنا یا