اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 615

اَربعین — Page 360

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۶۰ اربعین نمبر ۲ کہ ظاہر ہونے والا آدم کی طرح ظاہر ہو جس کا استاد اور مر شد صرف خدا ہو اور اسی کو دوسرے لفظوں میں مہدی کہتے ہیں یعنی خاص خدا سے ہدایت پانے والا اور تمام روحانی وجود اُسی سے حاصل کرنے والا اور اُن علوم اور معارف کو پھیلانے والا جن سے لوگ بے خبر ہو گئے ہیں کیونکہ یہ ضروری لازمہ صفت مہدویت ہے کہ گم شدہ علوم اور معارف کو دوبارہ دنیا میں لاوے کیونکہ وہ آدم روحانی ہے۔ ایسا ہی چاہیے کہ وہ بذریعہ نشانوں کے دوبارہ خدا تعالیٰ پر یقین دلانے والا ہو اور ایمان جو آسمان پر اُٹھ گیا اس کو بذریعہ نشانوں کے دوبارہ لانے والا ہو کیونکہ یہ بھی ضروری خاصہ صفت مہدویت ہے ۔ مہدی کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک پہلو سے آدم وقت ہو ۔ حقیقی اور کامل مہدی نہ موسیٰ تھا کیونکہ اس نے صحف ابراہیم وغیرہ پڑھے تھے اور نہ عیسی تھا کیونکہ اُس نے توریت اور صحف انبیاء پڑھے تھے۔ حقیقی اور کامل مہدی دنیا میں صرف ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو محض اُمی تھا۔ ایسا ہی یہ زمانہ جس میں ہم ہیں مسیح کو بھی چاہتا ہے کیونکہ اس زمانہ میں ہزار ہا روحانی بیماریاں پیدا ہوگئی ہیں ۔ پس ضرورت پڑی کہ اتمام حجت ہو کر ہر ایک قسم کی روحانی بیماری دور ہو۔ اور مہدی اور مسیح میں کھلا کھلا فرق یہ ہے کہ مہدی کے لئے ضروری ہے کہ آدم وقت ہو اور اس کے وقت میں دنیا بکھی بگڑ گئی ہو اور نوع انسان میں سے اُس کا دین کے علوم میں کوئی استاد اور مرشد نہ ہو بلکہ اس لیاقت کا آدمی کوئی موجود ہی نہ ہوا اور محض خدا نے اسرار اور علوم آدم کی طرح اس کو سکھائے ہوں لیکن مسیح کے صرف یہ ☆ معنے ہیں کہ روح القدس سے تائید یافتہ ہو اور وقتا فوقتا فرشتے اس کی مدد کرتے ہوں۔ حمد اس جگہ بظاہر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مہدی کو بھی بذریعہ روح القدس ہی ہدایت ملتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مہدی کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں