اَربعین — Page 349
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۴۹ اربعین نمبر ۲ وہ عیب میں داخل ہیں یا چند ایسی پیشگوئیاں پیش کریں جو ان کے نزدیک وہ پوری نہیں ہوئیں مگر وہ امور ایسے ہوں جو انبیاء کے سوانح یا اُن کی پیشگوئیوں میں اُن کی نظیر مل نہ سکے مگر یاد رہے کہ اگر وہ ایسی مہذب اور دانشمند مجلس میں یہ تصفیہ کرنا چاہیں تو ضرور ثابت ہو جائے گا کہ وہ صرف بہتان اور افتر ا کرنے والے ہیں۔ غائبانہ ذکر تو صرف غیبت کہلاتا ہے اس سے زیادہ نہیں اور اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس میں شخص غیبت کنندہ کو بوجہ اکیلا ہونے کے ہر ایک کذب اور افترا کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ پس بلا شبہ ایسی غیبت جس مجلس میں سنی جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک صلحاء کی مجلس نہیں ہے۔ اگر انسان اپنے دل میں سچائی کی طلب رکھتا ہے تو جو بات اس کو سمجھ نہ آوے اس کو پوچھ لینا چاہیے۔ اگر میرے پر یہ الزام لگایا جائے کہ کوئی پیشگوئی میری پوری نہیں ہوئی یا پورا ہونے کی امید جاتی رہی تو اگر میں نے بحوالہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے یہ ثابت نہ کر دیا کہ در حقیقت وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوگئی ہیں یا بعض انتظار کے لائق ہیں اور وہ اُسی رنگ کی ہیں جیسا کہ نبیوں کی پیشگوئیاں تھیں تو بلا شبہ میں ہر ایک مجلس میں جھوٹا ٹھہروں گا لیکن اگر میری باتیں نبیوں کی باتوں سے مشابہ ہیں تو جو مجھے جھوٹا کہتا ہے اُس کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔ بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوۃ والسلام اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو پاوے میرا سلام اُس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوۃ اور سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے ۔ پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔ خود عام طور پر تمام مومنوں کی نسبت قرآن شریف میں