انوارالاسلام — Page 65
روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے ضرور پیشگوئی کے زمانے میں اسلامی عظمت کو اپنے دل میں جگہ دے کر حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اگر اب بھی بعض متعصب ناقص الفہم لوگ شک رکھتے ہیں ۔ تو اب ہم یہ دوسرا اشتہار دو ہزار روپیہ انعام کی شرط سے نکالتے ہیں۔ اگر آتھم صاحب جلسہ عام میں تین مرتبہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں نے پیشگوئی کی مدت کے اندر عظمت اسلامی کو اپنے دل پر جگہ ہونے نہیں دی اور برابر دشمن اسلام رہا اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت الحرير اور کفارہ پر مضبوط ایمان رکھا تو اسی وقت نقد دو ہزار رو پید ان کو به شرائط قرار داده اشتہار ۹ رستمبر ۱۸۹۴ء بلا توقف دیا جائے گا اور اگر ہم بعد قسم دو ہزار روپیہ دینے میں ایک منٹ کی بھی تو قف کریں تو وہ تمام لعنتیں جو نادان مخالف کر رہے ہیں ہم پر وارد ہوں گی اور ہم بلا شبہ جھوٹے ٹھہریں گے اور قطعاً اس لائق ٹھہریں گے کہ ہمیں سزائے موت دی جائے اور ہماری کتابیں جلا دی جائیں اور ملعون وغیرہ ہمارے نام رکھے جائیں اور اگر اب بھی آتھم صاحب با وجود اس قدر انعام کثیر کے قسم کھانے سے منہ پھیر لیں تو تمام دشمن و دوست یا درکھیں کہ انہوں نے محض عیسائیوں سے خوف کھا کر حق کو چھپایا ہے اور اسلام غالب اور فتح یاب ہے پہلے تو ان کے حق کی طرف رجوع کرنے کا صرف ایک گواہ تھا یعنی ان کی وہ خوف زدہ صورت جس میں انہوں نے پندرہ مہینے بسر کئے اور دوسرا گواہ یہ کھڑا ہوا کہ انہوں نے باوجود ہزار روپیہ نقد ملنے کے قتسم کھانے سے انکار کیا ہے اب تیسرا گواہ یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار ہے اگر اب بھی قسم کھانے سے انکار کریں تو رجوع ثابت۔ کیا کوئی سچا موت سے ڈر کر انکار کر سکتا ہے۔ کیا ہر ایک جان خدا تعالی کے ہاتھ میں نہیں جبکہ عیسائیوں کا مقولہ ہے کہ ان کی جان مسیح نے بیچائی اور ہم کہتے ہیں کہ نہیں ہرگز نہیں ہر گز نہیں بلکہ اسلامی عظمت کو اپنے دل میں جگہ دینے سے الہام کی شرط کے موافق جان بچ گئی تو اب اس جھگڑے کا فیصلہ بجز ان کی قسم کے اور کیونکر ہو۔ اگر یہی بات سچی ہے کہ صرف مسیح نے ان پر فضل کیا تو اب اس معرکہ کی لڑائی میں جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں (۳) ضرور مسیح ان پر فضل کرے گا۔ اور اگر یہ بات سچی ہے کہ انہوں نے درحقیقت خوف کے دنوں میں