انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 581

انوارالاسلام — Page 59

روحانی خزائن جلد ۹ ۵۹ انوار الاسلام کو اس بات کی طرف تحریک نہ دی کہ وہ اس اثناء میں بدزبانی اور سخت گوئی کو کمال تک پہنچا کر موت کے اسباب اپنے لئے جمع کرتے بلکہ ان کے دل میں عظمت اسلام کا خوف ڈال دیا تا وہ اس شرط سے فائدہ اٹھا لیں جو رجوع کرنے والوں کے لئے الہامی الفاظ میں لکھے گئے تھے اور خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ عیسائیوں کو کچھ عرصہ تک جھوٹی خوشی پہنچا وے اور پھر وہ فیصلہ کرے جس سے درحقیقت اندھے آنکھیں پائیں گے اور بہروں کے کان کھلیں گے اور مردے زندے ہوں گے اور بخیل اور حاسد سمجھیں گے کہ انہوں نے کیسی غلطی کی ۔ امرت سر کے عیسائی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ خدا وند مسیح نے مسٹر عبد اللہ آ تم کو بچا لیا ۔ سو اب اگر وہ اپنے تیں سچے خیال کرتے ہیں تو ان پر واجب ہے کہ مقابلہ سے ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر وہ مصنوعی خدا اُن کا در حقیقت بچانے والا ہی ہے تو ضرور اس آخری فیصلہ پر بچالے گا کیونکہ اگر موت وارد ہو گئی تو سب عیسائیوں کی روسیا ہی ہے چاہیے کہ اپنے اس مصنوعی خداوند پر تو کل کر کے اپنی پیٹھ نہ دکھلا دیں لیکن یاد رکھیں کہ ہرگز ان کو فتح نہیں ہو گی جو شخص آپ فوت ہو گیا ہے وہ دوسرے کو فوت ہونے سے کب روک سکتا ہے ۔ روکنے والا ایک ہے جومی قیوم ہے جس کے ہم پرستار ہیں ۔ یہ تو ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کا حال بیان کیا جو فریق مخالف سے بحث کے لئے منتخب کئے گئے تھے لیکن اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس فریق مخالف میں سے جو لوگ بطور معاون یا حامی یا سر گر وہ تھے ان کا کیا حال ہوا انہوں نے بھی کچھ ہادیہ کا مزہ چکھا ہے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ ضرور چکھا اور میعاد کے اندر ہر ایک نے کامل طور سے چکھا۔ چنانچہ پادری رائٹ صاحب جو بطور