انوارالاسلام — Page 53
روحانی خزائن جلد ۹ ۵۳ انوار الاسلام اس دانا کسان کا فعل عبث نہیں ہوتا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اس زمین کا اعلیٰ جو ہر بجز اس درجہ کی کوفت کے نمودار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کسان اس زمین میں بہت عمدہ قسم کے دانے تخم ریزی کے وقت بکھیر دیتا ہے اور وہ دانے خاک میں مل کر اپنی شکل اور حالت میں قریب قریب مٹی کے ہو جاتے ہیں اور ان کا وہ رنگ و روپ سب جاتا رہتا ہے لیکن وہ دانا کسان اس لئے ان کو مٹی میں نہیں پھینکتا کہ وہ اس کی نظر میں ذلیل ہیں ۔ نہیں بلکہ دانے اس کی نظر میں نہایت ہی بیش قیمت ہیں بلکہ وہ اس لئے ان کو مٹی میں پھینکتا ہے کہ تا ایک ایک دانہ ہزار ہزار دانہ ہوکر نکلے اور وہ بڑھیں اور پھولیں اور ان میں برکت پیدا ہو اور خدا کے بندوں کو نفع پہنچے ۔ پس اسی طرح وہ حقیقی کسان کبھی اپنے خاص بندوں کو مٹی میں پھینک دیتا ہے اور لوگ ان کے اوپر چلتے ہیں اور پیروں کے نیچے کچلتے ہیں اور ہر یک طرح سے ان کی ذلت ظاہر ہوتی ہے ۔ تب تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانے سبزہ کی شکل پر ہو کر نکلتے ہیں اور ایک عجیب رنگ اور آپ کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں جو ایک دیکھنے والا تعجب کرتا ہے۔ یہی قدیم سے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ سنت اللہ ہے کہ وہ ورطہ عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن غرق کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ تا ان موتیوں کے وارث ہوں کہ جو دریائے وحدت کے نیچے ہیں۔ اور وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن اس لئے نہیں کہ جلائے جائیں بلکہ اس لئے کہ تا خدا تعالیٰ کی قدرتیں ظاہر ہوں۔ اور ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور لعنت کی جاتی ہے۔ اور وہ ہر طرح سے ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے اور طرح طرح کی بولیاں ان کی نسبت بولی جاتی ہیں۔ اور بدظنیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ بہتوں کے خیال و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ بچے ہیں بلکہ جو شخص ان کو دکھ دیتا اور لعنتیں بھیجتا ہے وہ اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ بہت ہی ثواب کا کام کر رہا ہے ۔ پس ایک مدت تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔ اور اگر اس برگزیدہ پر بشریت کے تقاضا سے کچھ قبض طاری ہو تو خدا تعالیٰ اس کو ان الفاظ (۵۲) سے تسلی دیتا ہے کہ صبر کر جیسا کہ پہلوں نے صبر کیا اور فرماتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ پس وہ صبر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ امر مقدر اپنی مدت مقررہ تک پہنچ جاتا ہے۔ تب غیرت الہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے اور ایک ہی تجلی میں اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے سو اول نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور اخیر میں اس کی نوبت آتی ہے۔ اسی طرح خداوند کریم نے بارہا مجھے سمجھایا کہ جنسی ہوگی اور ٹھٹھا ہوگا اور لعنتیں کریں گے اور بہت ستائیں گے لیکن آخر نصرت الہی تیرے شامل ہوگی