انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 581

انوارالاسلام — Page 23

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۳ انوار الاسلام اور ذلت کا کچھ مزہ چکھا یا اب تک بے لوث اور بالکل محفوظ ہے اور اگر اس فریق میں سے افراد کثیرہ نے ہادیہ کا مزہ چکھ لیا ہے تو کیوں اس پیشگوئی کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے ۔ بھلا بتاؤ کہ مزہ چکھنے سے باہر کون رہا۔ جلدی مت کرو ایک عمیق فکر کے ساتھ سوچو اور زیادہ تر افسوس ان بعض لوگوں پر ہے کہ اس فتح نمایاں پر انہوں نے پوری بشاشت ظاہر نہیں کی۔ میں ایسے لوگوں کو مطلع کرتا ہوں کہ یہ تو فتح ہے اور کامل فتح اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر خبیث القلب لیکن صادق تو ابتلاؤں کے وقت بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہوگا۔ اور یہ عاجز اگر چہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگر چہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اگر میں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی میں آخر فتح یاب ہوں گا مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے میں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لا حاصل ہیں۔ اے نادانو اور اندھو مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس بچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا ۔ یقیناً یا درکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ پیچ ہیں۔ میں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا۔ میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر (۲۲) ناراض نہیں کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا کبھی نہیں چھوڑے گا کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا کبھی نہیں ضائع کرے گا۔ دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا۔ میں اس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے کوئی چیز ہمارا پیوند تو نہیں سکتی اور مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو اس کا جلال چپکے اور اس کا بول بالا ہو ۔ کسی ابتلا سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگر چہ ایک ابتلا نہیں کروڑا ابتلا ہو۔ ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے ۔ من نه آنستم که روز جنگ مینی پشت من آن منم کاندر میان خاک و خوں بینی سرے پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پر خار باد یہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے پس جن لوگوں کے