انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 581

انوارالاسلام — Page xxiv

اور رسالہ ضیاء الحق کو جو مئی ۱۸۹۵ء میں لکھا جا چکا تھا اس کا ایک حصّہ بنایا جائے گا لیکن اخبار ’’نور افشاں‘‘ میں عبداﷲ آتھم کی پیشگوئی سے متعلق بعض مضامین کی اشاعت کی وجہ سے ضیاء الحق کے چند نسخوں کا شائع کرنا آپؑ نے مناسب سمجھا۔لیکن افسوس ہے کہ کتاب منن الرحمن ناتمام حالت میں رہ گئی اور اُس کی اشاعت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اﷲ بنصرہ العزیز کے عہد میں جون ۱۹۱۵ء میں ہوئی اور جس حالت میں یہ کتاب آپؑ کی موجودگی میں تھی اُسی صورت میں شائع کر دی گئی۔مگر اس تحقیق کے متعلق آپ کے بعض خدّام نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم نے ایک مختصر کتاب ’’ام الالسنہ‘‘لکھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائم کردہ اصولوں پر مفصّل ریسرچ کی سعادت مکّرم شیخ محمداحمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ لائلپور خلف الرشید حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلویؓ کے حصّہ میں آئی جنہوں نے برسوں کی محنت و کاوش سے دُنیا کی مشہور زبانوں سنسکرت، انگریزی، لاطینی، جرمنی، فرانسیسی، چینی ، فارسی اور ہندی کے گہرے اشتراک اور عربی کے اُمّ الالسنہ ہونے کا نظریّہ پوری شرح و بسط سے نمایاں کیا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ اصول کی روشنی میں ان زبانوں کے بیس ہزار الفاظ کے حل کرنے میں بھاری کامیابی حاصل کر لی ہے۔نور القرآن نمبر ۱ و نور القرآن نمبر ۲ قرآن کریم کے رُوحانی کمالات کے اظہار اور اِن باتوں کے شائع کرنے کے لئے جو راہِ راست کے جاننے اور سمجھنے اور شناخت کرنے کا ذریعہ ہوں اور جن سے وہ سچّا فلسفہ معلوم ہو جو دلوں کو تسلّی دیتا اور رُوح کو سکینت اور آرام بخشتا اور ایمان کو عرفان کے رنگ میں لے آتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ماہوار رسالہ جاری کرنے کا ارادہ فرمایا اور بالفعل ایک رسالہ بنام نور القرآن جاری فرمایا۔مگر افسوس کہ کثرتِ مشاغل و مصروفیات کے باعث اس کے صرف دو نمبر ہی نکل سکے۔پہلا نمبر تین ماہ یعنی بابت ماہ جون ، جولائی، و اگست ۱۸۹۵ء شائع ہوا۔اور دوسرا نمبر بابت ماہ ستمبر و اکتوبر و نومبر و دسمبر ۱۸۹۵ء اور جنوری و فروری و مارچ و اپریل ۱۸۹۶ء شائع ہوا۔نور القرآن نمبر ۱ میں آپؑ نے قرآن کریم اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت پر دلائل