انوارالاسلام — Page 123
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۲۳ انوار الاسلام وسیع میدان میں نکل آئے اور ہر یک بچہ کو اس کی ماں سے الگ کر دیا۔ پھر اس درد ناک حالت میں ان سب کے نعرے بلند ہوئے اور تضرع کی اور رجوع کیا سو خدا تعالیٰ نے ان کی تضرع کو قبول کر لیا اور عذاب میں تا خیر ڈال دی پس یونس نے ان باتوں کوسن کر کہا کہ جبکہ حال ایسا ہوا یعنی جبکہ ان کی تو بہ منظور ہوگئی اور عذاب ٹل گیا تو میں کذاب کہلا کر ان کی طرف نہیں جاؤں گا۔ سو وہ تکذیب سے ڈر کر اس ملک 11 نوٹ: یونہ یعنی یونس نبی کی کتاب میں جو بائبل میں موجود ہے باب ۳ آیت ۴ میں لکھا ہے اور یو نہ شہر میں (یعنی نینوہ میں ) داخل ہونے لگا۔ اور ایک دن کی راہ جا کے منادی کی اور کہا چالیس اور دن ہوں گے تب نیوہ بر باد کیا جائے گا۔ ۵ا تب نینوہ کے باشندوں نے خدا پر اعتقاد کیا اور روزہ کی منادی کی اور سب نے چھوٹے بڑے تک ٹاٹ پہنا ۔ ۱۰۔ اور خدا نے ان کے کاموں کو دیکھا کہ وہ اپنی بُری راہ سے باز آئے تب خدا اس بدی سے جو اس نے کہی تھی کہ میں ان سے کروں گا پچھتا کے باز آیا اور اس نے ان سے وہ بدی نہ کی ۔ باب ۴ پر یو نہ اس سے نا خوش ہوا اور نپٹ رنجیدہ ہو گیا ۔ اور اس نے خداوند کے آگے دعا مانگی۔ اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو مجھ سے لے لے کیونکہ میرا مرنا میرے جینے سے بہتر ہے۔ تم کلامہ ۔ اب اے شیخ جی ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یونس نبی کی کتاب سے بھی قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ موت کا عذاب ٹل گیا اور یہ بھی یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ اس پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی اسی لئے تو یونس نے رنجیدہ ہو کر دعا کی کہ اب میرا مرنا بہتر ہے شیخ جی اب تو آپ ہریک پہلو سے قابو میں آگئے ۔ آپ عام جلسہ میں بمقام لاہور عہد کر چکے ہو کہ میں اس بات کی قسم کھاؤں گا کہ موت کا عذاب نہیں ملتا۔ اب قسم کھاویں تا خدا تعالیٰ جھوٹے کو واصل جہنم کرے ورنہ یہ سخت بے ایمانی ہوگی کہ قسم کھانے کا عہد کر کے پھر تو ڑ دیا جاوے اور اگر آپ نے قسم نہ کھائی تو یہی سمجھا جائے گا کہ صرف دو سور و پہیہ کے طمع نفسانی نے آپ میں یہ جوش پیدا کر دیا تھا اور پھر جب قسم کھانے کی کوئی راہ نہ دیکھی تو اندر ہی اندروہ جوش تحلیل پا گیا اور بجائے اس کے اپنی بے وقوفی پر ایک ندامت باقی رہ گئی مگر کیا تعجب کہ پھر بھی قسم کھالو۔ کیونکہ بے ایمان آدمی پاک نوشتوں کی بھی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتا اور دہر یہ پن کی رگ سے (باقی اگلے صفحہ پر )