انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 581

انوارالاسلام — Page 121

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۲۱ انوار الاسلام قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو خدا تعالیٰ کی طرف تضرع کیا اور عورتیں اور بچے روئے اور اونٹنیوں نے ان کے بچوں کے سمیت اور گائیوں کے ان کے بچھڑوں کے سمیت اور بھیڑ بکری نے ان کے بزغالوں کے سمیت خوف کھا کر شور مچایا ۔ پس خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور عذاب کو ٹال دیا اور یونس غضب ناک ہوا کہ مجھے تو عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا یہ قطعی وعدہ کیوں خلاف واقعہ نکلا۔ پس یہی اس آیت کے معنے ہیں کہ یونس غضب ناک ہوا۔ اب دیکھو کہ یہاں تک یونس پر ابتلا آیا کہ کذبت اس کے منہ سے نکل گیا یعنی مجھے پر کیوں ایسی وحی نازل ہوئی جس کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی اگر کوئی شرط اس وعدہ کے ساتھ ہوتی تو یونس باوجود یکہ اس کو خبر پہنچ چکی تھی کہ قوم نے حق کی طرف رجوع کرلیا کیوں یہ بات منہ پر لاتا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی ۔ اور اگر کہو کہ یونس کو ان کے ایمان اور رجوع کی خبر نہیں پہنچی تھی اور اس وہم میں تھا کہ باوجود کفر پر باقی رہنے کے عذاب سے بچ گئے اس لئے اس نے کہا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی سو اس کا دندان شکن جواب ذیل میں لکھتا ہوں جو سیوطی نے زیر آیت وان يونس الخ لکھا ہے قال واخرج ابن جرير وابن ابی حاتم عن ابن عباس قال بعث الله يونس الى اهل قرية فردوا عليه فامتنعوا منه فلما فعلوا ذلک اوحی الله اليه انى مرسل عليهم العذاب فى يوم كذا وكذا فخرج من بين اظهرهم فاعلم قومه الذي وعدهم الله من عذابه اياهم ۔ فلما كانت الليلة التي وعد العذاب في صبيحتها فرأه القوم فحذروا فخرجوا من القرية الى براز من ارضهم و فرقوا كل دابة و ولدها ثم عجوا الى الله وانابوا واستقالوا فاقالهما الله وانتظر يونس الخبر عن القرية واهلها حتى مر به مار فقال ما فعل اهل القرية قال فعلوا ان يخرجوا الى براز من الارض ثم فرقوا بين كل ذات حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' گائیوں نے “ہونا چاہیے۔(ناشر)