انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 581

انوارالاسلام — Page 86

روحانی خزائن جلد ۹ ΛΥ انوار الاسلام اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے بخدا مجھے اسی وقت ۲۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو تیری نسبت الہام ہوا ہے ان شانئک ھو الابتر اور ہم نے اس طرح پر آتھم کا رجوع سبق ہونا بے ثبوت نہیں کہا۔ کیا تو سوچتا نہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو کیوں قسم نہیں کھاتا۔ اگر یہی سچ ہے تو وہ بچی قسم کھانے سے کس پہاڑ کے نیچے آ کر دب جائے گا اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ آتھم صاحب کا صرف بحیثیت مدعا علیہ انکار کرتے رہنا کچھ بھی چیز نہیں جھوٹ بولنا نصاری کی سرشت میں داخل ہے اگر بندہ پرست لوگ جھوٹ نہ بولیں تو اور کون بولے مگر ہمارا تو یہ مطلب اور مدعا ہے کہ بحیثیت ایک گواہ کے کھڑا ہو کر مجمع عام میں اس مضمون کی قسم کھا جائیں جس کی ہم بار بار تعلیم کرتے ہیں مگر کیا اس نے اب تک قسم کھائی ہرگز نہیں اور تعجب کہ ہم نے لکھا تھا کہ جو ولد الحلال ہے اور در حقیقت عیسائی مذہب کو ہی غالب سمجھتا ہے تو چاہیے کہ ہم سے دو ہزار روپیہ لے اور آتھم صاحب سے ہمارے منشاء کے موافق قسم دلاوے پھر جو کچھ چاہے ہمیں کہتا رہے ور نہ یوں ہی اسلامی بحث پر مخالفانہ حملہ کرنا اور زبان سے مسلمان کہلانا کسی ولد الحلال کا کام نہیں مگر میاں سعد اللہ صاحب نے آج تک آتھم صاحب کو قسم کھانے پر مستعد نہ کیا مگر عیسائیوں کو غالب سمجھتا رہا اور اپنے پر دانستہ وہ لقب لے لیا جس کو کوئی نیک طینت لے نہیں سکتا اور پھر یہ نادان کہتا ہے کہ اگر مرنا ہی عذاب کی نشانی ہے تو قادیانی بھی ضرور ایک دن اس عذاب میں مبتلا ہو گا اے احمق تیری کیوں عقل ماری گئی کیا تو قرآن نہیں پڑھتا۔ یوں تو انبیاء بھی فوت ہو گئے بلکہ بعض شہید ہوئے اور ان کے دشمن فرعون اور ابو جہل وغیرہ بھی مر گئے یا مارے گئے لیکن وہ موت جو مقابلہ کے وقت اہل حق کی دعا سے یا اہل حق کے ایڈا سے یا اہل حق کی پیشگوئی سے اشتقیا پر وارد ہوتی ہے وہ عذاب کی موت کہلاتی ہے کیونکہ جہنم تک پہنچاتی ہے مگر اہل حق اگر شہید بھی ہو جائیں تو وہ خدا کے فضل سے بہشت میں جاتے ہیں۔ (۱۲) بارواں اعتراض ۔ اسی ہندو زادہ کا یہ ہے کہ جب کوئی عمل نہ چلا تو ڈھکوسلا بنالیا کہ آتھم نے رجوع بحق کیا ہے الجواب : ہاں اے ہند و زادہ اب ثابت ہو گیا کہ