انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 581

انوارالاسلام — Page 68

روحانی خزائن جلد ۹ ۶۸ انوار الاسلام کہتے ہیں کہ کون مارے گا کیا ان کا خداوند مسیح یا اور کوئی پس جبکہ یہ دو خداؤں کی لڑائی ہے ایک سچا خدا جو ہمارا خدا ہے اور ایک مصنوعی خدا جو عیسائیوں نے بنا لیا ہے۔ تو پھر اگر آتھم صاحب حضرت مسیح کی خدائی اور اقتدار پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ آزما بھی چکے ہیں تو پھر ان کی خدمت میں عرض کر دیں کہ اب اس قطعی فیصلہ کے وقت میں مجھ کو ضرور زندہ رکھیو۔ یوں تو بقیه حاشیه : کہ نہ تو وہ اس خلاف حق کلمہ سے منہ بند کریں کہ اسلام اور عیسائیت کی بحث میں عیسائیوں کی فتح ہوئی۔ اور نہ مسٹر آتھم صاحب کو قسم کھانے پر آمادہ کریں۔ اور وجہ اعتراض یہ بیان کی گئی ہے کہ آتھم صاحب پر ہمارا کچھ زور اور حکم تو نہیں تا خواہ نخواہ تم کھانے پر ان کو مستعد کر یں ۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ اے بے ایما نو اور دل کے اندھو اور اسلام کے دشمنو اگر آتھم صاحب قسم کھانے سے گریز کر رہے ہیں تو اس سے کیا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یا یہ نتیجہ کہ در حقیقت آتھم صاحب نے دل میں اسلام کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ تبھی تو وہ جھوٹی قسم کھانے سے پر ہیز کرتے ہیں۔ جبکہ تم نیم عیسائی ہو کر بدل و جان زور لگا رہے ہو کہ آتھم صاحب کسی طرح اقرار کر دیں کہ میں در حقیقت ایام میعاد پیشگوئی میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن رہا اور عاجز انسان کو خدا جانتا رہا۔ تو پھر اگر آتھم صاحب در حقیقت کے عیسائی اور دشمن اسلام ہیں ۔ تو ان کو ایسی قسم سے کون روکتا ہے جس کے کھانے کے ساتھ دو ہزار روپیہ نقد ان کو ملے گا اور جس کے نہ کھانے سے یہ ثابت ہوگا کہ عظمت اسلام ضرور ان کے دل میں سما گئی۔ اور عیسائیت کے باطل اصول ان کی نظر میں حقیر اور مکروہ معلوم ہوئے اے نیم عیسائیو ذرہ اور زور لگاؤ۔ اور آتھم صاحب کے پیروں پر سر رکھ دو شاید وہ مان لیں اور یہ پلید لعنت تم سے مل جائے ۔ ہائے افسوس عیسائی گریز کریں اور تم اصرار کرو مجیب سرشت ہے۔ اے نیم عیسائیو آج تم نے وہ پیشگوئی پوری کر دی۔ جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو ستر ہزار میری امت میں سے دجال کے ساتھ مل جائے گا۔ سو آج تم نے دجالوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملا دی تا جو اس پاک زبان پر جاری ہوا تھا وہ پورا ہو جائے ۔ تمہیں وہ حدیث بھی