انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 448

انجام آتھم — Page 29

روحانی خزائن جلدا ۲۹ انجام آتھم بلکہ اس نے امور واقعہ کی طرف نظر کر کے یہ امر صاف دیکھا کہ ان دونوں کارروائیوں میں ﴿۲۹﴾ سے کوئی کارروائی بھی اس کے لئے مبارک نہیں ہوگی اور انجام بد ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اپنے تئیں عیسائی کہلانا اس کی عملی حالت سے اخیر دم تک متناقض رہا۔ اس کے رفیق پادری اور ڈاکٹر کلارک سر پیٹ پیٹ کر تھک گئے مگر اس نے نہ چاہا کہ ان دعاوی کو عدالت کے ذریعہ سے ثابت کراوے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسے بڑے بہتان پیشتر اس کے کہ وہ صحیح سمجھے جاویں طبعی طور پر پختہ ثبوت کے واسطے تقاضا پیدا کرتے ہیں اور در حالت عدم ثبوت عدالتیں فریق ثانی کو انتظامی استغاثہ کی اجازت دیتی ہیں۔ سوسوچنا چاہئے کہ وہ کس قدر اپنے اس بہتان اور جھوٹ سے ہراساں اور تر ساں تھا کہ باوجود یکہ اس کے داماد بڑی بڑی حکومت کے عہدوں پر معزز تھے اور اس کے عیسائی دوست گورنمنٹ میں ه حاشيه کے مطابق اس کی موت ہوئی ۔ اور اس پیشگوئی میں دو پہلو تھے ۔ سو اپنے دونوں پہلوؤں کے رو سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ۔ ہم کسی متعصب بے حیا کا منہ بند تو نہیں کر سکتے اور نہ ہم سے پہلے کوئی نبی یا رسول بند کر سکا۔ لیکن ایک متقی کے لئے اس پیشگوئی کی صداقت سمجھنے میں کچھ بھی مشکلات نہیں چنانچہ ہم اسی رسالہ اور پہلے رسائل میں بھی بہت کچھ بیان کر چکے ہیں ۔ باقی رہی احمد بیگ کی موت اور اس کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی سواحمد بیگ تو پیشگوئی کی میعاد کے اندرفوت ہو گیا ۔ جس سے ہمارے کسی مخالف کو انکار نہیں گویا پیشگوئی کی دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ وہ اپنے رفیق اور خ گو یا قبل از موت مر گیا ۔ اور اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ جب ایک ہی پیشگوئی دو شخص کی موت کی خبر دیوے اور ایک ان میں سے مر جائے تو دوسرے پر اس موت کا طبعاً و فطرتا اثر پڑ جاتا ہے۔ سو اس جگہ ایسا ہی ہوا۔ لہذا سنت اللہ کے موافق جس کا ذکر ہم بار بار لکھ چکے ہیں اس وعید کی میعاد میں تخلف ہو گیا ۔ ہم اپنے پہلے اشتہاروں میں ان بعض خطوط کا ذکر کر چکے ہیں جو ان لوگوں کی طرف سے ہمیں پہنچے جن میں تو بہ اور خوف و رجوع کا اقرار تھا۔ پھر اگر یہ امر قرآن اور توریت کی رو سے صحیح نہیں ہے کہ وعید کی پیشگوئی کی میعاد کا تخلف جائز ہے تو ہر ایک معترض کا اعتراض بجا اور درست ہے لیکن اگر قرآن اور توریت کی رو سے یہی امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعاد تو بہ اور خوف سے مل سکتی ہے تو سخت بے ایمانی ہوگی کہ کوئی شخص مسلمان کہلا کر یا عیسائی کہلا کر پھر ایسی بات پر اعتراض کرے جو قرآن شریف اور پہلی آسمانی کتابوں سے ثابت ہے اس صورت میں ایسا شخص ہم پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ ایسے نالائق