انجام آتھم — Page 387
یسوع کے زمانے میں ایک تالاب تھا جس سے نشان ظاہر ہوتے تھے ۲۹۱ح یسوع کی نسبت عیسائی تعلیم ۳۳ اس کا اقرارکہ ’’میں نیک نہیں‘‘ ۳۸ جھوٹوں پر یسوع کی بدعائیں ۴۱،۴۴ عین القضاۃ صاحب مولوی۔لکھنؤ فرنگی محل مباہلہ کا مخاطب ۷۰ غلام احمد قادیانی علیہ السلام حضرت مرزا ۳۳،۴۴،۶۶،۷۲، ۱۷۲،۳۰۱ح،۳۱۶ح، ۳۱۸ح،۳۲۳،۳۳۴ آپ کے تین نام(آدم، مریم، احمد) اور ان سے مراد ۳۳۸ آئندہ کے لئے مباحثاث سے اعراض کا اعلان ۲۸۲ آپ کو بے عزتی سے دیکھنا خدا کو بے عزتی سے دیکھنا اور آپ کو قبول کرنا خدا کو قبول کرنا ہے ۳۲۰ آج کے دن میری کشتی کے سوا کوئی کشتی نہیں ۱۱۴ آپ کسی خونی مسیح اور خونی مہدی کے آنے کے قائل نہیں ۶۸ آپ پر صوم و صلوٰۃ وغیرہ ارکان اسلام نظر استخفاف سے دیکھنے کا افترا ۴۵ آپ کی سچائی کے سمجھنے کے لئے پانچ قرائن ۴۹ جو میرے ہاں چالیس دن رہے گا وہ کچھ ضرور مشاہدہ کرے گا ۱۸۱ میرے ہاں ایک سال گزار و تا میں تمہیں خدا کے نشان دکھاؤں ۱۸۳ میرے نفس پر اس کی ذات کی محبت غالب ہوئی ۲۶۷ مسیح موعود ؑ کا دعویٰ وحی و الہام اور اس پر گزرنے والا عرصہ ۵۰ حضرت مسیح موعودؑ کوئی بدعت لے کر نہیں آئے ۱۱۵،۱۴۴،۱۶۰ مسیح موعودؑ کا فتن اور بدعات کے ظہور کے وقت بھیجا جانا ۱۶۳ مسیح موعودؑ کے نام غلام احمد قادیانی کے عدد (۱۳۰۰) میں زمانہ کا عدد مخفی ہونا ۱۷۲ مسیح موعود کا بڑانشان کسر صلیب ہے ۴۶ مسیح موعودؑ کو خدا کے علم ازلی میں پوشیدہ امور کی خبر دیا جانا ۷۶ مسیح موعود ؑ کے ظہور میں آنے والے امور غیبیہ ۲۹۷ مسیح موعودؑ کے خلاف مولوی نذیر حسین کا دجالانہ فتویٰ سراسر افتراء ہے ۳۹ مسیح موعودؑ کو ملائک سے انکاری کہنا افتراء ہے ۴۵ مسیح موعود کا وقت ظہور آپ کا صدی چہار دہم کے سر پر ظہور ۵۱،۷۵،۲۸۵،۳۲۲ آپ کے نام کے عدد میں آپ کے وقت ظہور کا عدد ۱۷۲ آپ کا آنا بروقت ہے ۸۶،۲۵۵،۲۸۵ فتنوں ، بدعات،سیّئات کے ظہور اور مسلمانوں کی کمزوری کے وقت آپ کا ظاہر ہونا ۷۸،۱۲۳ مسیح موعود کا عیسائیت کے موجزن فتنہ کے زمانہ میں پیدا ہونا ۴۶،۱۱۶،۱۱۷،۱۲۱ حضورؑ کی نسبت وقوع میں آنے والے دو عظیم فتنے ۳۴۱ آپ کے زمانہ کی علامات ۱۴۲ اغراض بعثت تجدید دین اور اصلاح امت ۷۵،۱۴۴،۳۲۱ اسلام کو زندہ مذہب ثابت کرنا ۳۴۵ صلیبی فتنہ کو روشن دلائل سے فرو کرنے پر مامور ہونا ۴۶،۵۱ صلح کاری سے حق کو پھیلانا ۶۸ لوگوں کو برے اخلاق اور منافقت سے روکنا اور مخلص توحید پرستوں کی راہ دکھانا ۱۴۳ آپ کے دعاوی آپ کے دعویٰ کی بنیاد دو باتوں پر ۱۔نصوص قرآنیہ و حدیثیہ۲۔الہامات الہیہ ۴۸،۶۵ مجددیت و امامت اور مکاملہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہونے کا دعویٰ ۴۶،۴۹،۷۵،۱۱۳،۱۲۲،۱۴۲،۱۷۲ بطور روحانی بروز عیسیٰ نام دیے جانے کا دعویٰ ۷۵،۱۴۲،۱۴۴