انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 448

انجام آتھم — Page 345

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۴۵ ضمیمه رساله انجام آنقم بیعت میں معہ اپنے اہل بیت کے داخل ہو چکے ہیں۔ ایسا ہی حاجی منشی احمد جان صاحب لدھیانوی مرحوم اس عاجز کے اول درجہ کے معتقدین میں سے تھے اور اُن کے تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں اور گھر کے لوگ غرض تمام کنبہ ان کا اس عاجز کی بیعت میں داخل ہو چکا ہے۔ بالآخر میں پھر ہر یک طالب حق کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ دین حق کے نشان اور اسلام کی سچائی کے آسانی گواہ جس سے ہمارے نابینا علماء بے خبر ہیں وہ مجھ کو عطا کئے گئے ہیں ۔ مجھے بھیجا گیا ہے تا میں ثابت کروں کہ ایک اسلام ہی ہے جو زندہ مذہب ہے ۔ اور وہ کرامات مجھے عطا کئے گئے ہیں جن کے مقابلہ سے تمام غیر مذہب والے اور ہمارے اندرونی اندھے مخالف بھی عاجز ہیں ۔ میں ہر یک مخالف کو دکھلا سکتا ہوں کہ قرآن شریف اپنی تعلیموں اور اپنے علوم حکمیہ اور اپنے معارف دقیقہ اور بلاغت کاملہ کی رو سے معجزہ ہے۔ موسیٰ کے معجزہ سے بڑھ کر اور عیسی کے معجزات سے صد ہا درجہ زیادہ ۔ میں بار بار کہتا ہوں ۔ اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات کا بنا دیتا ہے۔ اور ای کامل انسان پر علوم غیبیہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اور دنیا میں کسی مذہب والا روحانی برکات میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ چنانچہ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں ۔ میں دیکھ رہا ہوں جو شخص یہ کہتا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام میں کوئی اہل کرامت موجود نہیں وہ اندھا اور دل سیاہ ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے کہ کسی زمانہ میں اہل کرامت سے خالی نہیں رہا۔ اور اب تو اتمام حجت کے لئے کرامات کی نہایت ضرورت ہے اور وہ ضرورت خدا تعالیٰ کے فضل سے حسب المراد پوری ہوگئی ہے کوئی شخص نہیں کہ کرامت نمائی میں اسلام کے مقابل پر ٹھہر سکے۔ منہ